جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

گاڑیوں کی رجسٹریشن بک ختم،اب اس کی جگہ کیا ہوگا؟ حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر

datetime 24  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی)پنجاب اسمبلی نے پراونشل موٹروہیکل آرڈیننس 1965ء میں ترمیم کی متفقہ طور منظوری دے دی ۔ سپیشل مانیٹرنگ یونٹ لاء اینڈ آرڈر کے سینئر ممبر سلمان صوفی نے بتایا ہے کہ سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے ٹرانسپورٹ سہولت پروگرام کے تحت دوبلوں میں اصلاحات پیش کی گئی تھیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف گزشتہ سال مارچ میں ہی ان ترامیم کی اصولی منظوری دے چکے ہیں۔ پراونشل موٹروہیکل آرڈیننس 1965ء میں مجوزہ ترمیم کے مطابق صوبہ پنجاب میں گاڑی کی رجسٹریشن بک کی جگہ آٹوموٹو رجسٹریشن کارڈ سسٹم متعارف کرایا جائے گا اور دوسرے صوبوں میں 120 دن سے زائد رکھی جانے والی گاڑیوں کو متعلقہ موٹررجسٹریشن اتھارٹی سے دوبارہ رجسٹریشن حاصل کرنا ہو گی۔ گاڑی کی ملکیت تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑی کی نمبرپلیٹ بھی تبدیل کر دی جائے گی۔ گاڑی کی ٹرانسفر کے دوران سابقہ مالک اپنی لائسنس نمبرپلیٹ موٹروہیکل سے اتار لے گا اور گاڑی کے خریدار کو نئی لائسنس نمبرپلیٹ اور سرٹیفکیٹ آف رجسٹریشن حاصل کرنا ہو گا۔ بل میں دوسری ترامیم کے مطابق حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکاری لائسنس نمبرپلیٹ کا نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور نمبرپلیٹس میں ترامیم یا خرابی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ جعلی نمبر پلیٹ بنانے والوں کو سات دن سے ایک سال تک قید کی سزا اور جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا جو ایک لاکھ تک ہو سکتا ہے اور اسی طرح ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے فرد کو پندرہ دن سے 2سال تک اور30ہزار سے 2لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…