جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

تیسری قوت آگئی تو ذمہ دار نواز شریف ہوں گے عمران خان نے دھماکے دار اعلان کر دیا

datetime 23  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر فوج کو بدنام کررہی ہے۔اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ’ 2 نومبر کو احتجاج اس لیے کررہے ہیں کہ ہمارے دو مطالبے ہیں، یا تو نواز شریف پاناما لیکس میں سامنے آنے والے انکشافات پر حساب دیں یا پھر استعفیٰ دیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’اداروں سے انصاف نہ ملنے کے بعد تحریک انصاف کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا اور اگر اس کے نتیجے میں کوئی تیسری قوت آگئی تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہوں گے‘۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’ہم 20 سال سے جدوجہد تیسری طاقت کو بلانے کے لیے نہیں کررہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت کے میڈیا سیل نے فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جبکہ ہماری فوج ایل او سی اور سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ’پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہے گا، ہم تو وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، سپریم کورٹ تو وزیر اعظم کو سزا دے گی‘۔انہوں نے کہا کہ دھرنا اس لیے دے رہے ہیں کہ نواز شریف خود کو احتساب کے لیے پیش نہیں کررہے اور اگر اس کے نتیجے میں جمہوریت کو کوئی بھی نقصان ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف تو احتساب کے لیے پیش نہ ہوکر پہلے ہی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نہ جواب دیتے ہیں اور نہ ہی استعفیٰ دیتے ہیں، ملک میں بادشاہت ہے یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے‘۔عمران خان نے کہا کہ ’حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ 2 نومبر کا احتجاج تحریک انصاف فوج کی وجہ سے کررہی ہے اور دھرنے میں غیر ریاستی عناصر شریک ہوں گے‘۔عمران خان نے کہا کہ ’وزیر اعظم نواز شریف اپنی کرپشن کو بچانے کے لیے ہندوستانی اور اسرائیلی لابی کو ا?گے بڑھا رہے ہیں جو فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہیں‘۔2 نومبر کے دھرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 7 مہینوں میں پاکستان کے اداروں نے وزیر اعظم کی کرپشن پر کوئی کارروائی نہیں کی لہٰذا پر امن احتجاج ہمارا حق ہے۔’اگر حکومت نے تشدد کیا اور روکنے کی کوشش کی تو نقصان اٹھانا پڑے گا کیوں کہ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ یہاں کرپٹ اشرافیہ ہے جو ملک کو لوٹتے ہیں اور انہیں پکڑنے والا کوئی نہیں ہے‘۔عمران خان نے کہا کہ ’نواز شریف کی حمایت کرنے والے انہیں فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اور جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سڑکوں پر نہ نکلیں وہ خود کرپٹ ہیں‘۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…