پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

پی آئی اے،پاکستان سٹیل اور ریلوے کا خسارہ705ارب روپے آئی ایم ایف کی رپورٹ میں حکومتی کارکردگی کے بارے میں ہوشربا انکشافات

datetime 17  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( آن لائن )انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ(آئی ایم ایف ) نے پاکتان سے ساختیاتی اصلاحات پروگرام کا سوکور کارڈ جاری کردیا جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے تین اہم ترین اداروں پی آئی اے، پاکستان سٹیل اور ریلوے کا خسارہ 705 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔گزشتہ تین برسوں کے دوران گیس کے شعبے میں بھی خسارے کے حجم میں 11.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اورقدرتی گیس سسٹم کو ہونے والے سالانہ نقصان کا تخمینہ 6 ارب روپے لگایا گیا ہے تاہم اس عرصے کے دوران گیس کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا۔
پاور سیکٹر کی کئی کمپنیوں کے اکاؤنٹس بھی 660 ارب روپے کے قرضوں سے بھرے ہوئے ہیں جن میں سے 348 ارب روپے کے قرض گزشتہ تین برسوں میں لیے گئے حالانکہ اس دوران کنزیومر ٹیرف میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے،اگر مذکورہ سرکاری اداروں اور پاور کمپنیوں کے خساروں کو یکجاکیا جائے تو اس کا حجم 1.365 کھرب روپے بنتا ہے جو کہ ملک کے موجودہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 1.25 کھرب روپے سے بھی زیادہ ہے۔پاکستان میں آئی ایم ایف کا ساختیاتی اصلاحات پروگرام تین سالہ توسیعی سہولت فنڈ کے تحت شروع کیا گیا تھا جو تیس ستمبر کو ختم ہوچکا ہے۔رپورٹ کے مطابق 13۔2012 میں مذکورہ تینوں سرکاری اداروں کے مجموعی خسارے کا حجم مجموعی قومی پیداوار کا 1.7 فیصد تھا جو 16۔2015 میں بڑھ کر جی ڈی پی کا 2.3 فیصد ہوگیا جبکہ جی ڈی پی کا حجم بھی اب کافی بڑھ چکا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج لگاکر کنزیومر گیس ٹیرف 540 روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 647 روپے کردیا گیا جبکہ پاور سیکٹر کے واجب الادا رقم کا حجم بھی جی ڈی پی کے 2.2 سے 2.3 فیصد تک ہے۔پاور سیکٹر کے بقایا جات کا بڑا حصہ جون اور اگست 2013 میں ادا کردیا گیا تھا لیکن واجب الادا رقم کا حجم دوبارہ بڑھ گیا تاہم اس کی رفتار کم ہوگئی ہے۔کہ پاور سیکٹر کا ترسیلی خسارہ کم ہوکر 17.9 فیصد رہ گیا جبکہ وصولیاں بھی 5 فیصد اضافے کے بعد 92.6 فیصد ہوگئی ہیں۔ ۔#/s#‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…