جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم اور آرمی چیف براہمداغ بگٹی کے مطالبات ماننے پر رضا مند تھے،بلوچستان میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟اہم سیاستدان کاخصوصی انٹرویو

datetime 27  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی ) وفاقی وزیر پورٹ اینڈشپنگ میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف براہمداغ بگٹی کے مطالبات ماننے پر رضا مند تھے، بلوچستان میں عسکریت پسندی کی حمایت میں واضح کمی ہوئی، اب لڑائی ریاست سے نہیں، بلوچوں کے مابین ہو رہی ہے، حکمرانوں کی بڑی غلطی سردار اکبر بگٹی کو قتل کرنا تھا، بلوچستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے اس کی وجہ نواب اکبر بگٹی کا قتل ہے، بلوچستان میں ایک عشرہ پہلے عسکریت پسندی کو جو حمایت حاصل تھی اس میں واضح کمی واقع ہوئی ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اب تو ریاست سے لڑائی ہو ہی نہیں رہی ہے۔ اب تو لڑائی برادر کشی میں بدل چکی ہے۔ اب زیادہ تر لڑائی بلوچوں کے مابین ہو رہی ہے۔ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں میر حاصل بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور وفاقی وزیر جنرل ریٹائرڈ عبد القادر بلوچ وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کی رضامندی سے ناراض بلوچوں سے ملاقات کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی سے کئی ملاقاتیں ہوئی۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ براہمداغ بگٹی کے مطالبات میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو پاکستانی ریاست مان نہیں سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ براہمداغ بگٹی اپنے دادا کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدوں پر عمل درآمد اور پی پی ایل میں نوکریاں چاہتے تھے۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ وطن واپس پہنچ کر ڈاکٹر عبدالمالک اور قادر بلوچ نے وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کیں اور انھیں براہمداغ بگٹی کے مطالبات پیش کئے ۔انھوں نے کہا کہ دونوں وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف ان مطالبات کو ماننے پر رضامند تھے۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ جب سے بلوچستان میں ان کی جماعت کی حکومت ختم ہوئی ہے انھیں نہیں معلوم کہ براہمداغ بگٹی کیساتھ ہونے والے مذاکرات کس مرحلے میں ہیں۔ بلوچستان کے حقوق کیلئے اعلان کردہ ’آغاز حقوق بلوچستان‘ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ جب رضا ربانی اس کمیٹی کے سربراہ تھے تو کچھ اچھا کام شروع ہو چکا تھا لیکن جب رحمان ملک کو اس کا چیئرمین بنایا گیا تو وہ اپنی افادیت کھو چکا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کو پانچ ہزار ملازمتوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ہماری حکومت بھی کوشش کرتی رہی اور موجودہ حکومت بھی کوششیں کر رہی ہے لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔انھوں نے کہا کہ وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی حکومت کے دوران جبری گمشدگیوں اور لاشیں ملنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ میر حاصل بزنجو نے کہا اس وقت کے حکمرانوں کی سب سے بڑی غلطی سردار اکبر بگٹی کو قتل کرنا تھا اور آج بلوچستان میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے اس کی وجہ نواب اکبر بگٹی کو قتل کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…