پشاور(این این آئی)گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے وہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو ایک مسئلہ نہیں سمجھتے اور ضرورت پڑنے پر چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد ان کے قیام میں توسیع کی جاسکتی ہے ۔پاکستان ٹیلی ویژن کے نمائندوں بابرگورسی اور آغا اقرار ہارون کو جمعہ کے روز پشاور میں انٹرویو دیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوااقبال ظفر جھگڑا کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے وطن واپسی کے معاملے پر ان سے زبردستی نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے افغان مہاجرین کو کمیپس میں نہیں رکھا بلکہ ان کے ساتھ مہمانوں جیسا برتاؤ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے سلسلے میں افغان حکومت سے معاملہ طے پا گیا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں اصلاحات کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اکثریت کے رائے ہے کہ فاٹا کا الحاق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہونا چاہئے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات ایک اہم قدم ہے اور اس حوالے سے قبائلی عوام کو مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے ۔ناصرف علاقے کے ملک سے بات کی گئی بلکہ طلباء، سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سے بھی فاٹا کے مستقبل کے بارے میں رائے لی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ ملک و قوم کو مضبوط کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی یہ خواہش ہے کہ فاٹا کی عوام کو بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح تمام ضروریات زندگی میسر آئیں اور فاٹا اصلاحات اسی خواہش کو پورا کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) بہت پرانا قانون ہے اسے بدلنا ہو گااور قبائلی عوام کو پاکستان کا اہم حصہ بنانا ہو گا۔گورنر خیبر پختونخوااقبال ظفر جھگڑا کا کہنا تھا کہ فاٹا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام(اے ڈی پی) میں اضافہ کیا گیا ہے اور نیشنل فنانس کمیشن سے فاٹا کو تین فیصدحصہ بھی ملے گاجبکہ 2017میں قبائلی علاقوں میں لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی نافذ کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی درہ آدم خیل کے قریب رواں سال ستمبر تک کام شروع کر دے گی جبکہ باجوڑ ایجنسی میں میڈیکل کالج کی تعمیر جاری ہے۔فاٹا میں فوج کی کارکردگی کو سرہاتے ہوئے اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ فوج نے قبائلی علاقوں میں بہت کام کئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ فوج وہاں اپنی خدمات سر انجام دیتی رہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کی لیویز فورس کو مضبوط کیا جائے گا اور لیویز کے 20,000اہلکار بھرتی کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔مزید برآں ان کا کہنا تھا کہ فاٹا اہم سیاحتی مقام بن سکتا ہے اور وہاں اس شعبے میں ترقی ان کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سیاحت کے فروغ کے لئے پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنا یا جا رہا ہے اور علاوہ ازیں ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیوب ویلز بھی لگائے جائیں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث فاٹا سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنے گھروں میں واپسی کے حوالے سے گورنرخیبر پختونخوا نے بتایا کہ وزیر ستان کے علاوہ دیگر قبائلی علاقوں کے 100فیصد آئی ڈی پیز واپس جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزید تقریبا ایک لاکھ خاندانوں نے اپنے علاقوں کو واپس لوٹنا ہے جو تقریبا سات لاکھ افراد بنتے ہیں۔کوشش ہے کہ نومبر تک تمام آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے ،جب بھی وفاقی حکومت سے فنڈز مانگے گئے فراہم کر دیئے گئے۔اقبال ظفر جھگڑا کا مزید کہنا تھا کہ فورسز نے علاقے کو مکمل کلیئر کیا تب ہی آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل شروع کیا گیاتھا۔
افغان مہاجرین کیلئے خوشخبری‘پاک افغان حکومت میں معاہدہ طے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































