الطاف حسین کا اصل مقصد کیا ہے؟ جاوید چودھری کا الطاف حسین کی تازہ ترین ہرزہ سرائی پر تبصرہ
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی‘ معروف کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چوہدری نے الطاف حسین کی تازہ ترین ہرزہ سرائی پر اپنے تبصرے میں بتایا کہ الطاف حسین نے ہندوؤں سے کہا کہ ہم سے غلطی ہو گئی ‘ گناہ ہو گیا ‘ ہم انگریز کی سازش کا شکار ہو گئے ۔ ہم نے یہ گناہ کر دیا پاکستان بنانے کا۔ جو اس سازش کا حصہ نہیں بنے تھے وہ آج عیش کر رہے ہیں ۔ اس پر جاوید چوہدری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس بھارت سے وہ معافی مانگ رہے ہیں ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ ان کے وزیر دفاع منوہرپاریکر نے ایک بیان دیا تھا کہ پاکستان جانا جہنم جانے کے برابر ہے۔ اس کے جواب میں ان کے ملک کی ایک اداکارہ نے اتنا کہہ دیا تھا کہ پاکستان جانا جہنم نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان جہنم ہے ۔ اس کے جواب میں جس بھارت سے الطاف حسین معافی مانگ رہے ہیں اس اداکارہ کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ الطاف حسین جس بھارت سے معافی مانگ رہے ہیں وہاں ایک اداکارہ کو اتنی بات کہنے کا حق نہیں اور کسی وزیر کے جواب میں آنے والے بیان کو بھی برداشت نہیں کرتا ۔ یہ صرف پاکستان ہے اور پاکستان کے لوگ ہیں جن کیخلاف پچیس سال آپ بیان دیتے رہے ہیں ‘ آپ ان کیخلاف باتیں کرتے رہے ہیں‘ آپ انڈیا ‘ امریکہ اور اسرائیل سے مدد مانگیں ‘آپ انڈیا جا کر یہ کہتے رہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی اور یہ تقسیم غلط تھی۔ اس کے باوجود پاکستان آپ کو برداشت کرے اور عوام آپ کو قائد تحریک کہے‘ آپ کو لیڈر مان لے اور آپ کے منتخب کردہ لوگوں کو ایوانوں میں جگہ دے یہ صرف پاکستان کر سکتا ہے اگر آپ کو بھارت اتنا اچھا لگتا ہے تو آپ بھارت چلے جائیں ۔ وہاں تو وہ اپنے شہری کو اتنا حق نہیں دیتے کہ وہاں کوئی اپنے وزیر کے سامنے یہ کہہ سکے کہ پاکستان جہنم نہیں ہے۔ یہ ہے بھارت جس سے آپ معافی مانگ رہے ہیں۔ پھرآپ نے کہا گناہ ہو گیا۔ گناہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان بھارت میں گائے لے کر جا رہا ہو اور لوگ اسے پکڑ لیں تو اسے قتل کر دیتے ہیں اگر کسی کے اوپر یہ الزام لگ جائے کہ اس کے فریج میں گائے کا گوشت ہے تولوگ اس کے گلے میں ٹائر ڈال کر اس کو آگ لگا کر اس کو مار دیتے ہیں۔ سینکڑوں مثالیں ایسی ہیں کہ کسی مسلمان پر اگر گائے ذبح کرنے کا الزام لگ گیا تو اس کے پورے خاندان کو جلا دیا گیا۔ یہ وہ انڈیا ہے جس سے آپ معافی مانگ رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کراچی شہر میں 12 ہزار لوگوں کو ذبح کر کے پھینک دیا گیا ‘ سڑکوں پر لاشیں پڑی ہوتی تھیں اس کے باوجود پاکستان نے آپ کو برداشت کیا۔کسی الزام کے جواب میں آپ کے اوپر پتھراؤ نہیں ہوا۔ آپ کے بہت سے دوست اور عزیز رشتہ دار ہوں گے جو آج بھی بھارت میں ہوں گے اور ایم کیو ایم کے اندر اس وقت جتنے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں جیسے کہ وسیم اختر میئر بنے ہیں ان سب کے عزیز اور رشتہ دار انڈیا میں ہوں گے۔ ا ن میں سے کسی ایک کے عزیز یا رشتے دار کا نام بتائیں جو وہاں ایم پی اے منتخب ہو گیا ہو‘ ایم این اے یا سینیٹر بن گیا ہویا کراچی جیسے کسی بڑے شہر کا میئر بن گیا ہو۔ یہ پاکستان ہے جو آپ کے شخص کو جیل کے اندر ووٹ دے کر میئر بنا دیتا ہے۔ بارہ مئی کو قتل کرنے کے الزامات ہوں پھر بھی لوگ میئر بن جائیں‘ ایم این اے بن جائیں ‘ ایم پی اے بن جائیں یہ پاکستان ہے۔ کوئی ایسا شخص بتائیں جو آپ کا عزیز رشتہ دار ہو ‘جو بھارت میں رہ گیا ہو اور اس نے وہاں ترقی یا عیاشی کی جسے آپ مثال بنا کر پیش کر سکیں۔ عیش آپ کر رہے ہیں ۔ لندن میں بیٹھ کر آپ پاکستان کو گالی دیتے ہیں ۔ پاکستا ن نے آپ کو شناخت دی ‘ آپ کو عزت دی ۔ اگر یہ ملک نہ ہوتا تو آپ کے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو اس وقت بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آپ پاکستان کو معاف کر دیں اب یہ ملک مزید ان لوگوں کو عزت نہیں دے سکتا جو پاکستان کو گالی دے رہے ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































