بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

ایم کیو ایم مشتعل،کراچی میدان جنگ بن گیا،بات حد سے آگے نکل گئی

datetime 22  اگست‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی ہدایت پر کارکنان نے کراچی پریس کلب کے باہر گزشتہ 6روز جاری بھوک ہڑتال ختم کرتے ہوئے نجی ٹی وی چیلنجز کے دفاترکاگھیراؤکرلیا،فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2زخمی ہوگئے،پولیس موبائل سمیت متعددگاڑیوں کو جلادیا گیا۔پولیس اور ایم کیوایم کارکنان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی۔ کراچی پریس کلب، فوارہ چوک اور زینب مارکیٹ سمیت دیگرعلاقے جنگ کا منظرپیش کرنے لگے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کے فوری بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو فون کیا اور صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول کرنے کی ہدایت کی۔تفصیلات کے مطابق ایم کیوایم کے قائد کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کے بعد ایم کیوایم کے کارکنان نے گورنر ہاؤس کے قریب سٹی شاپنگ مال میں نجی ٹی وی چینل کا گھیراؤ کیا اور چینل پر دھاوا بول دیا، مشتعل کارکنان ٹی وی چینل کے دفتر کے اندر داخل ہوگئے اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے عملے کو ہراساں بھی کیا جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ اور توڑ پھوڑ کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔پولیس کے موقع پر پہنچنے پر صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی اور اس دوران پولیس اور ایم کیوایم کارکنان میں شدید جھڑپیں ہوئی جس سے فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے، مشتعل کارکنان نے فائرنگ کرتے ہوئے پولیس وین اور 2 موٹرسائیکلوں کو بھی آگ لگا دی،۔ مشتعل افراد نے فوراہ چوک پر ٹریفک چوکی کو بھی توڑ دیا ہے۔ کارکنان کے اشتعال کو دیکھتے ہوئے جائے وقوعہ پر پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی۔کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیوایم کا بھوک ہڑتالی کیمپ خالی کرالیا گیا، پولیس نے ایم کیوایم کارکنان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی اور کئی کارکنان کو حراست میں بھی لے لیا۔ ایم کیوایم کے کارکنان کے احتجاج اور کشیدہ صورتحال کے باعث زینب مارکیٹ مکمل طور پر بند ہوگئی اور آئی آئی چند ریگر روڈ سمیت اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا جس سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ایم کیوایم کے کارکنان کے احتجاج کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بھی افراتفری مچ گئی جس کے نتیجے میں اہم شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کے فوری بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو فون کیا اور صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ میڈیا ہاؤسز اور ان کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلی سندھ نے حکم دیا کہ ہوائی فائرنگ اور تصادم میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…