منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

اب بجلی نمک سے پیدا ہوگی

datetime 23  جولائی  2016 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی کمپنی نے ایسا شمسی بجلی گھر تعمیر کیا ہے جو نمک استعمال کرتے ہوئے رات کے وقت میں بھی بجلی بناسکتا ہے.امریکا کے صحرائے نیواڈا کے وسط میں ’’سولر ریزرو‘‘ نامی کمپنی نے ایسا بجلی گھر لگایا ہے جو 10 ہزار بڑے آئینوں پر مشتمل ہے اور انہیں ایک دائرے کی شکل میں نصب کیا گیا ہے۔ ان کے مرکز میں 195 میٹر بلند ٹاور ہے۔ آئینوں سے منعکس ہونے والی دھوپ اس ٹاور پر مرتکز ہوتی ہے جہاں ایک دیوقامت ٹینک میں سوڈیم اور پوٹاشیم نائٹریٹ نمکیات کا آمیزہرکھا جاتا ہے۔ مرتکز روشنی کی شدید گرمی ان نمکیات کو گرم کرکے پگھلا دیتی ہے اور ان کا درجہ حرارت 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچاسکتی ہے۔پگھلے ہوئے گرم نمکیات کا ا آمیزہ پائپوں کے راستے نیچے پہنچایا جاتا ہے اور خاص طرح کی حاجز (انسولیٹنگ) ٹنکیوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہاں یہ نمک 10 سے 12 گھنٹوں تک اسی حالت اور اسی درجہ حرارت پر محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر نمک کی گرمی سے پانی گرم کرکے زبردست دباؤ والی بھاپ بنائی جاتی ہے اور اس بھاپ سے ٹربائن گھما کر بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
سولر ریزرو کے سربراہ کیون اسمتھ کا کہنا ہے کہ اس شمسی بجلی گھر سے اتنی بجلی بنائی جاسکتی ہے جو بیک وقت 75,000 گھروں کے لیے کافی ہوگی۔ نمک گرم کرکے بجلی بنانے کا خیال کوئی نیا نہیں البتہ اس شمسی بجلی گھر میں پہلی بار نمک کو براہِ راست گرم کرنے کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔واضح رہے کہ دھوپ سے بجلی بنانے کے 2 طریقے زیادہ مشہور ہیں جن میں سے ایک ’’فوٹو وولٹائکس‘‘ کہلاتا ہے اور اس میں شمسی سیل/ سولر پینل استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ دوسرے طریقے ’’سولر تھرمل‘‘ کے تحت مرتکز دھوپ سے کوئی مادہ (تیل، پانی یا نمک وغیرہ) گرم کیے جاتے ہیں اور اسی گرمی کو بجلی پیدا کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ سولر ریزرو کی ٹیکنالوجی بھی اسی ’’شمسی حرارتی‘‘ (سولر تھرمل) کے زمرے میں آتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…