تحریر(جاوید چوہدری) زیروپوائنٹ
منظور اسلامیہ کالج سول لائنزکا طالب علم ہے‘ منظور نے چند دن قبل مجھ سے ایک نہایت ہی آسان اور سادہ سا مشورہ مانگا‘ منظور کی خواہش نیک بھی ہے‘ معمولی بھی ہے اور آسان بھی۔ میں نے سوچا میں خط‘ ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعے منظورکو مشورہ دے دوں لیکن پھر خیال آیا یہ ملک کے چھ سات کروڑ نوجوانوں کا مسئلہ ہے چنانچہ اگر اس مسئلے کا اجتماعی حل بتا دیا جائے تو لاکھوں نوجوانوں کی ’’راہنمائی‘‘ ہو سکتی ہے۔ منظور کا تعلق اوکاڑہ کے کسی گاؤں سے ہے‘
اس کے والد ہائی سکول میں کلرک ہیں‘ یہ لوگ سات ایکڑ زمین کے مالک ہیں‘ بڑا بھائی اٹھارہ ہزار وپے کی نوکری کرتا ہے‘ چھوٹا بی کام کر رہا ہے اور خود منظور بی ایس سی کا طالب علم ہے۔ منظور نے مجھے خط لکھا اور اس خط میں پوچھا ’’میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہتا ہوں‘ مجھے اس کیلئے کرنا چاہئے‘ مجھے مشورہ دیجئے‘‘ منظور کا خط پڑھ کر جی خوش ہو گیا کیونکہ یہ میری زندگی کا پہلا نوجوان ہے جس نے مجھ سے کوئی آسان مشورہ مانگا ورنہ زیادہ تر نوجوان مجھ سے شلوار میں آزار بند ڈالنے‘گرمیوں میں ٹنڈ کروانے‘ کریلوں کے ساتھ چھوٹا گوشت پکانے یا سر میں سرسوں کا تیل لگانے جیسے مشکل مشورے مانگتے ہیں اور میری عقل ہمیشہ ایسے مشکل مراحل پر ماؤف ہو جاتی ہے۔ منظور وزیراعظم کیسے بن سکتا ہے؟ اب آتے ہیں اس مسئلے کے حل کی طرف ۔ منظور کو وزیراعظم بننے کیلئے آٹھ معمولی اور آسان سے کام کرنا ہوں گے۔ انہیں سب سے پہلے پڑھائی بند کرنا ہو گی کیونکہ تعلیم‘ ڈگری اور علم آگے چل کر ان کے کیرئر میں رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے‘ ہمارے موجودہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی سی ایم ایچ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’میں نے ایف ایس سی کی‘ میں آپ کی طرح ذہین طالبعلم نہیں تھا‘ میرے نمبر کم آئے یوں میں ڈاکٹر نہیں بن سکا چنانچہ وزیراعظم بن گیا‘‘۔
وزیراعظم کا یہ اعتراف منظور جیسے وژنری نوجوان کیلئے مشعل راہ ہونا چاہئے چنانچہ اسے تعلیم فوراً چھوڑ دینی چاہئے کیونکہ اگر بدقسمتی سے بی ایس سی میں اس کے اچھے نمبر آ گئے تو والدین اسے انجینئرنگ یونیورسٹی میں دھکیل دیں گے یا پھر ایم ایس سی جیسے فضول دھندے میں ڈال دیں گے۔ یہ ایم ایس سی یا بی ایس سی انجینئرنگ کرے گا اور نوکری کیلئے مارا مارا پھرتا رہے گا یوں اس کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔دو‘ منظور کو چاہئے یہ تعلیم کا سلسلہ بند کر کے اپنی تمام تر توانائیاں وزرات عظمیٰ کیلئے وقف کر دے تا کہ اس کی منزل آسان ہو جائے۔ منظور کو اس کے بعد کوئی جاگیردار‘ سرمایہ دار‘ بزنس مین‘ سیاستدان یا پھر جرنیلی خاندان تلاش کرنا چاہئے‘ اس کا والد کیونکہ محض کلرک ہے‘
بھائی صرف اٹھارہ ہزار روپے کی نوکری کرتا ہے اور یہ لوگ صرف سات ایکڑ زمین کے مالک ہیں چنانچہ منظور اس پس منظر کے ساتھ ترقی نہیں کر سکے گا۔ اگر منظور کے والد کا کوئی سینما وغیرہ ہوتا تو شائد یہ مسئلہ حل ہو جاتا کیونکہ سینماؤں کے ذریعے بھی اقتدار تک پہنچا جا سکتا ہے چنانچہ منظور کیلئے اب صرف ایک آپشن بچتا ہے۔ یہ کسی بڑے خاندان پر نظریں جما کر بیٹھ جائے‘ یہ کسی بااثر خاندان کی کسی لولی لنگڑی‘ کانی‘ بہری‘ اندھی یاذہنی معذور بچی سے شادی کر لے یا پھر کسی بڑے خاندان کا لے پالک بچہ بن جائے‘ یہ کسی نہ کسی طرح سید‘ مخدوم‘ جیلانی‘ گیلانی‘ جتوئی‘ لغاری‘ سومرو‘ جمالی یا چودھری ہو جائے‘ اگر کوئی بس نہ چلے تویہ تبدیلی نام کے ذریعے ہی خود کو سید منظور حسین جیلانی یا مخدوم چودھری منظور حسین سومرو ڈکلیئر کر دے‘ یقین کیجئے اس کا کام آسان ہو جائے گا۔
تین یہ فوری طور پر ملک کی کوئی بڑی سیاسی جماعت جوائن کر لے اور کسی نہ کسی طریقے سے سیاسی قیادت کے قریب ہو جائے۔ یہ مالش کی ٹریننگ لے لے‘ یہ سردبانے‘ عظیم قائد کی کرسی پر تکیہ رکھنے یا قائد کی روزانہ اور شبانہ ضروریات کی ذمہ داری اٹھا لے‘ یہ ’’میں اپنے قائد سے عرض کرنا چاہتا ہوں‘‘ جیسے فقرے رٹ لے اور قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں جیسے نعرے یاد کرلے ‘ یہ قائد کے اتنے قریب ہو جائے کہ قائد کو ٹشو پیپر چاہئے‘ پانی کی بوتل چاہئے‘ قائد کو سورج سے بچنے کیلئے چھتری درکار ہو‘ قائد کے جوتے پر گرد پڑ جائے یا پھر قائد نے کوٹ اتار کر ویسٹ کوٹ پہننا ہو تو وہ بے اختیار منظور کی طرف دیکھے اور منظور صرف قائد کی نظریں پڑھ کر ویسٹ کوٹ‘ برش‘ چھتری‘ گلاس اور ٹشو پیپر لے کر سٹیج پر پہنچ جائے تو منظور کیلئے ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
چار‘ منظور کی ذات پر کرپشن کے دو چار دھبے ضرور ہونے چاہئیں‘ اس نے ٹھیکے لئے ہوں‘ سڑکوں‘ پلوں اور بندوں کے ٹھیکے جاری کئے ہوں‘ یہ ہسپتال‘ سکول اور گلیوں کے فنڈ کھا گیا ہو‘ اس نے کسی تاجر‘ کسی بزنس مین کی ٹانگ سے بم باندھ کربینک سے رقم نکلوائی ہو‘ یہ اپنے عظیم قائد کا فرنٹ مین رہا ہو‘ اس نے بینک بنا کر لوگوں کا سرمایہ لوٹا ہو‘ اس نے جعلی کاغذات پر لوگوں کو ویزے لگوا کر دئیے ہوں‘ یہ لوگوں سے کروڑوں روپے لے کر کھا گیا ہو‘ اس نے سرکاری نوکریاں بیچی ہوں‘ سرکاری گاڑیاں فروخت کی ہوں یا پھر اس نے سرکاری پٹرول میں گڑ بڑکی ہو تو منظور کو کوئی طاقت وزیراعظم بننے سے نہیں روک سکے گی۔ منظور کیلئے آئیڈیل صورتحال تو یہ ہو گی کہ منظور کسی نہ کسی طرح لندن میں کوئی فلیٹ خرید لے‘ کسی آبدوز‘ کسی ہیلی کاپٹر‘ کسی جنگی جہاز‘ کسی رینٹل پاور پلانٹ اور کسی بڑی ہاؤسنگ سکیم میں کمیشن کھا جائے‘
کوئی نیا شہر بنانے کا اعلان کرے‘ لوگوں سے بکنگ لے اور یہ ساری رقم کسی سوئس بینک میں جمع کرا دے‘ یہ پانچ چھ آف شور کمپنیاں بنائے‘ منی لانڈرنگ کرے‘ نیویارک میں پراپرٹی خریدے‘ ملک میں بڑی بڑی گاڑیاں امپورٹ کرے‘ سرکاری زمینیں اپنے دوستوں میں بانٹ دے اور یہ لوگ ان زمینوں پر بڑے بڑے شاپنگ مال بنائیں‘ اپارٹمنٹس تعمیر کریں اور منظور کسی فوجی حکومت کے ہاتھوں گرفتار ہو جائے‘ جیل میں اسے اے سی لگانے‘ پانچ لاکھ کا بیڈ رکھنے‘ ٹیلی ویژن اور ورزش کی سہولت حاصل ہو‘ منظور فوجی آمر کے کسی نہ کسی پرنسپل سیکرٹری سے ملاقاتیں کرے اور یہ ڈیل کے ذریعے باہر آجائے تو منظور کا مستقبل روشن ہو گا۔
پانچ‘ منظور کو بیرونی طاقتوں سے اپنے رابطے استوار کرنا ہوں گے‘ یہ سعودی شہزادوں‘ دوبئی کے حکمرانوں‘ برطانوی سیاستدانوں اور امریکی سی آئی اے سے رابطے استوار کرے‘ لوگوں کو پاکستان میں شکار کھلائے اور خود شکار کھیلنے کیلئے امریکا اور برطانیہ جائے تا کہ کسی مستقبل ساز لمحے میں کوئی شہزادہ‘ کوئی لارڈ اور کوئی باؤچر منظور کی منظوری لے کر پاکستان پہنچ جائے۔ امریکی سفیر منظور کے کندھے پر ہاتھ رکھ دے اور یوں منظور کی منظوری ہو جائے۔ چھ‘ منظور کو قانون‘ آئین اور روایت سے اپنا یقین اٹھانا ہوگا‘ یہ کسی بھی وقت جھوٹ کو سچ کہہ سکتا ہو‘ یہ معاہدوں اور وعدوں کو سیاسی بیان قرار دے سکتا ہو اور یہ این آر او جیسے اقدامات کو جمہوریت کی ماں ثابت کر سکتا ہو‘
منظور کو اگراقتدار کیلئے پارٹی چھوڑنی پڑے‘ پرانے محسنوں کو گالی دینا پڑے‘ بیانات سے مکرنا پڑے‘ حلف کی خلاف ورزی کرنا پڑے‘ وعدے توڑنا پڑیں‘ آئین کا حلیہ بگاڑنا پڑے‘ عدالتوں پر حملے کرنا پڑیں‘ ججوں کو کمروں میں بند کرنا پڑے یا پھر قانون توڑنا پڑے تو منظور چپ چاپ یہ سب کچھ کر گزرے‘ اس کے ضمیر پر بوجھ نہ پڑے۔ سات‘ منظور کو قرضے لینے کا ڈھنگ آنا چاہئے‘ اس نے ذاتی ضرورت کیلئے پاکستانی بینکوں بالخصوص زرعی ترقیاتی بینک سے قرض لیا ہو اور یہ ڈیفالٹ کر گیا ہو۔ منظور کو ملک کیلئے غیر ملکی بینکوں سے قرضوں کا حامی بھی ہونا چاہئے۔
یہ امداد‘ بھیک‘ فنڈز اور قرضوں کو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہو‘ یہ سرکاری خزانے کو اپنے والد کی میراث خیال کرتا ہو اوریہ جی کھول کرخزانے کو لوٹنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور آٹھ‘ منظور امریکا اور فوج کو اقتدار اعلیٰ سمجھتا ہو‘ یہ پبلک مقامات پر فوج کے خلاف تقریریں کرنے کا ماہر ہو لیکن تنہائی میں جرنیلوں کو چائے بنا کر پلاتا ہو اور ان کے مرحوم والد صاحب کی دل کھول کر تعریف کرتا ہو‘ یہ راتوں کی خاموشی میں جرنیلوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کرتا ہو اور جنرل میک کرسٹل‘ رچرڈ باؤچر‘ رچرڈ ہالبروک اور ڈیوڈ ملی بینڈ کے ساتھ گپ شپ بھی کرتا ہو۔ یہ دل سے سمجھتا ہو اگر امریکا اور آرمی خوش ہے تو آپ پکے وزیراعظم ہیں۔
منظور کو پاکستان کا وزیراعظم‘ صدر یا کامیاب سیاستدان بننے کیلئے ان آٹھ اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ اگر منظور ان آٹھ اصولوں پر عمل کر لے تو اسے وزیراعظم بنتے دیر نہیں لگے گی بصورت دیگراس کیلئے دو آپشن بچتے ہیں۔ یہ تعلیم مکمل کرے‘ فرسٹ کلاس ڈگری لے‘ رشوت یا سفارش کے ذریعے کلرک بھرتی ہو اور باقی زندگی رو دھو کر گزار دے اوراگر منظور کو یہ بھی منظور نہیں تو یہ امریکا چلا جائے کیونکہ پاکستان کے مقابلے میں امریکا میں ایک عام‘ پڑھے لکھے‘ لوئر مڈل کلاس اور اوباما جیسے سیاہ فام کے سربراہ بننے کے زیادہ امکانات ہیں۔ منظور اصول‘ تعلیم اور محنت کی بنیاد پر امریکا کا صدر تو بن سکتا ہے لیکن پاکستان میں کونسلر تک نہیں بن سکتا۔
یہ کالم 01,02,2010کوشائع ہوا

























