منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

کتنے فیصد خواتین اپنے شوہروں پر اعتبار کرتی ہیں؟ دلچسپ انکشاف

datetime 6  جولائی  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ازدواجی رشتے میں اعتماد بہت اہمیت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں ایسے بہت سے جوڑے ہیں جو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔حال ہی میں ایک برطانوی مارکیٹ ریسرچ کمپنی ون پول کی جانب سے سروے کیا گیا۔ماہرین نے سروے کے دوران 18سے65سال کی عمر کے1000شادی شدہ جوڑوں کا انٹرویو کیا۔سروے رپورٹ کے مطابق ہر 10میں 1فیصد خواتین اپنے شوہروں پر بالکل اعتماد نہیں کرتیں۔علا وہ ازیں باقی9فیصد بھی گاہے بگاہے اپنے شوہروں کے سوشل میڈیا اکانٹس چیک کرتی رہتی ہیں کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کس سے اور کیا باتیں کرتے ہیں۔تاہم دوسری جانب صرف 3فیصد مرد اپنی بیویوں کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ چیک کرتے ہیں اور 5فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیویوں پر اعتماد نہیں کرتے۔2013 ء میں سی این این کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر3میں سے1خاتون کا کہنا تھا کہ وہ چوری چوری اپنے شوہر کا فون چیک کرتی ہیں۔مذکورہ بالا رپورٹس کی روشنی میں ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ شادی شدہ زندگی بسر کرنے والے بیشتر جوڑے آپس میں عدم اعتماد کا شکار ہیں جو درست نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جوڑوں کا آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرنا اور چوری چھپے ایک دوسرے کے فونز اور دیگراکانٹس کو چیک کرنا مستقبل قریب میں انکی ازدواجی زندگی کیلئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔شادی سے متعلقہ معاملات کے ماہر ٹم لاٹ کی دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کامیاب شادی شدہ زندگی کیلئے جوڑوں کا ایک دوسرے سے بات کرنا اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا بے حد ضروری ہے۔لاٹ کا کہنا ہے کہ آپ کو اپنی ازدواجی زندگی کی کامیابی کیلئے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے ، اگر آپکا یا آپکی شریک سفر ایک بار آپکا اعتبار توڑ دے تو دوسری مرتبہ کریں اگر پھر توڑ دے تو آپ دوبارہ کریں اور تب تک جاری رکھیں جب تک آپ اسے برداشت کر سکیں۔تاہم انکا مزید کہنا ہے کہ کبھی کبھار شریک سفر کی بے وفائی اور برے رویے کو بھلانا یا اسے معاف کرنا قطعی آسان نہیں ہوتا۔لیکن اس کے باوجود انکا کہنا ہے کہ اپنے رشتے کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے جہاں تک ممکن ہو سکے ایک دوسرے کا اعتماد بحال کرنے کی کو شش جاری رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…