اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)افغانستان کے دارالحکومت میں طالبان کی وزارتِ دفاع کی عمارت کے اندر مبینہ طور پر فائرنگ اور تصادم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد طالبان قیادت میں تناؤ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے اور وزارتِ دفاع کے احاطے میں جھڑپیں ہوئیں۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تصادم کن گروہوں کے درمیان ہوا، اس کی بنیادی وجوہات کیا تھیں اور آیا اس میں کوئی جانی نقصان بھی ہوا یا نہیں۔ صورتحال کو تیزی سے بدلتی ہوئی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ رات افغان طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کی گئی تھی، جس کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور ردعمل دیتے ہوئے “آپریشن غضب للحق” شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اس کارروائی کے دوران پاک فضائیہ نے کابل اور قندھار میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں طالبان کے کئی مراکز متاثر ہوئے۔عطا تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے 133 اہلکار مارے گئے، جبکہ دو کور ہیڈکوارٹرز، دو اسلحہ گودام اور ایک لاجسٹک بیس کو تباہ کیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔



















































