ہفتہ‬‮ ، 31 اکتوبر‬‮ 2026 

گندم کی سرکاری سپورٹ پرائس فی من مقرر

datetime 13  فروری‬‮  2026 |

مکوآنہ (این این آئی)ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد ڈویژن چوہدری خالد محمود نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کی

سرکاری سپورٹ پرائس 3500 روپے فی من مقرر کرنے اور 30 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کے فیصلے کا مقصد مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام اور کاشتکار کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے تاہم موجودہ نازک مرحلے پر فصل کی مناسب دیکھ بھال نہ کی گئی تو پیداوار میں کمی کے باعث کسان کو معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل اس وقت گوبھ بننے اور بالیاں نکلنے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جو پیداوار کے تعین کا انتہائی اہم دور ہے۔ اس مرحلے پر بروقت آبپاشی نہ ہونے کی صورت میں دانے کی بھرائی متاثر ہو سکتی ہے جس کا براہ راست اثر فی ایکڑ پیداوار اور کسان کی آمدن پر پڑے گا۔انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ پوٹاش کھاد کا متوازن استعمال کرتے ہوئے فوری آبپاشی کو یقینی بنائیں تاکہ پیداوار میں کمی سے بچا جا سکے اور حکومتی سپورٹ پرائس سے مکمل فائدہ حاصل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں فی ایکڑ زیادہ پیداوار ہی کسان کے منافع کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اگر کاشتکار محکمانہ سفارشات پر عمل کریں تو نہ صرف ان کی لاگت بہتر انداز میں پورا ہو سکے گی بلکہ اضافی پیداوار سے ان کی مجموعی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے 3500 روپے فی من قیمت مقرر کرنا کسان دوست اقدام ہے جس سے مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔چوہدری خالد محمود نے مزید کہا کہ کاشتکار ہفتہ وار بنیاد پر فصل کا معائنہ لازمی کریں، اگر سست تیلہ یا کنگی جیسی بیماریوں یا کیڑوں کا حملہ نظر آئے تو فوری طور پر محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملہ سے رابطہ کریں تاکہ ان کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص اور مناسب سپرے سے نہ صرف پیداوار محفوظ رہتی ہے بلکہ اضافی اخراجات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت توسیع کا فیلڈ عملہ کسانوں کی رہنمائی کے لیے متحرک ہے اور جدید زرعی سفارشات کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کاشتکار متوازن کھاد، بروقت آبپاشی اور بیماریوں کے کنٹرول پر توجہ دیں تو وہ بہتر معیار کی گندم حاصل کر کے حکومتی خریداری مہم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ڈائریکٹر زراعت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ زراعت کسانوں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا تاکہ گندم کی بمپر پیداوار کے ذریعے نہ صرف کسان کی مالی حالت مضبوط ہو بلکہ صوبے میں غذائی استحکام بھی یقینی بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…