اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومت نے 10 روپے سے 5 ہزار روپے تک کے تمام کرنسی نوٹوں کے نقش و نگار اور حفاظتی خصوصیات میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت کسی بھی موجودہ نوٹ کو کالعدم قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ رائج کرنسی کو نئے ڈیزائن کے ساتھ مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق پرانے نوٹوں کے تبادلے کے لیے تمام بینکوں کو باقاعدہ شیڈول فراہم کیا جائے گا، تاکہ عوام کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ ہو اور منتقلی کا عمل بآسانی مکمل ہو سکے۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق اس فیصلے کی منظوری دراصل 2025 میں دی گئی تھی، جس پر اب عملی اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں گردش کرنے والی نقد رقم کا حجم 10 ہزار 260 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ 2024 کے مقابلے میں صرف ایک سال کے دوران اس میں ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد معیشت کو ڈیجیٹل نظام کی طرف لے جانا اور کیش لیس لین دین کو فروغ دینا ہے۔ نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے سے غیر دستاویزی رقوم، نقدی کے ذخیرے اور غیر رسمی مالی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ذرائع کے مطابق نئے نوٹوں کی طباعت کا عمل وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد شروع کیا جائے گا، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس حوالے سے ابتدائی انتظامات مکمل کر چکا ہے۔ کابینہ سے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کی منظوری ملتے ہی پرنٹنگ کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق امید ہے کہ یہ منصوبہ 2026 کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا، بالخصوص آخری دو سے تین ماہ میں عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔ پرانے نوٹ واپس لینے اور نئے نوٹ جاری کرنے کے لیے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مرحلہ وار ہدایات جاری کی جائیں گی۔



















































