ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فضائیہ کو چینی فضائیہ سے بہتر قرار دیے جانے پر چینی دفاعی تجزیہ کار دلچسپ ردِعمل

datetime 21  اکتوبر‬‮  2025 |

بیجنگ(این این آئی )چینی دفاعی تجزیہ کار نے اعداد و شمار کی بنیاد پر دنیا میں فضائی قوت کی درجہ بندی پر دلچسپ رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر فضائیہ کا معاملہ کاغذ پر موجود اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصل صلاحیتوں پر ہونا چاہیے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق دنیا کے فضائی قوتوں کی درجہ بندی پر چینی دفاعی تجزیہ کار ژانگ جنشے نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فضائی قوت کی اصل جانچ جنگی صورتحال میں ہوا کرتی ہے، دوسری تمام درجہ بندیاں محض کاغذی کارروائی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔چینی دفاعی تجزیہ کار نے یہ بات عالمی سطح پر شائع ہونے والی جدید فضائی قوتوں میں شامل ہوائی جہازوں کی ڈائرکٹری (WDMMA) میں شامل 103 ممالک کی 129 فضائی قوتوں کی درجہ بندی کے حوالے سے ردعمل میں کہی۔ اس درجہ بندی میں بھارتی فضائیہ کو امریکا اور روس کے بعد تیسری بڑی قوت کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

عالمی ویب سائٹ نے اس حوالے سے جو فارمولا بنایا ہوا ہے اس کو TruVal ریٹٹنگ کا نام دیا جاتا ہے جس میں کسی فوج کی مجموعی ترقی، لاجیسٹکل سپورٹ، حملہ اور دفاع کرنے صلاحیتوں پر جائزہ لیا جاتا ہے، اس میں ہتھیاروں کی صلاحیت پر نہیں بلکہ جنگی سامان کی مجموعی تعداد کو بنیاد بنایا گیا ہے۔بین الاقوامی رسالے نیوز ویک کی رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ درجہ بندی کے اعتبار سے چینی فضائیہ سے بہتر اور طاقتور ہے اور یہ بات عالمی طاقت کے توازن ایک بڑی تبدیلی ہے۔تاہم چینی دفاعی تجزیہ کار ژانگ جنشے عالمی رینکنگ کے معاملے پر کہتے ہیں کہ اس کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ امریکی اور بھارتی میڈیا کی کارستانی ہے جس سے حقیقی معاملات میں سوائے غلط فیصلوں کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…