ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اگر ادارے کا کوئی بھی رکن کچھ غلط نہیں کرتا تو پھر کورٹ مارشل کیوں کیے جاتے ہیں؟اسد عمر کا سوال

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد ( آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے آئی ایس پی آر کے عمران خان پر الزامات کو بے بنیاد قرار دیدیا۔اسد عمر نے ٹوئٹ کیا کہ اگر آئی ایس پی آر جاننا چاہتا ہے کہ شہدا اور ادارے کی توہین کیا ہوتی ہے تو وہ موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں کی گئی وہ مشہور تقریر سن لے

جس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فوج نے قوم کی ہڈیوں سے گوشت تک نوچ لیا ہے۔اسد عمر نے سوال اٹھایا اگر ادارے کا کوئی بھی رکن کچھ غلط نہیں کرتا تو پھر کورٹ مارشل کیوں کیے جاتے ہیں؟، حتیٰ کہ جرنیل رینک کے افسران کا بھی ماضی میں کورٹ مارشل ہوا ہے، اگر وہ ایسے کام کرتے ہیں جس پر کورٹ مارشل کیا جاتا ہے تو افراد پر تنقید کیوں نہیں جاسکتی؟انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایس پی آر کے عمران خان پر الزامات بے بنیاد ہیں، انھوں نے کبھی ادارے کیخلاف بات نہیں کی، بلکہ ہمیشہ اسے مضبوط کرنے کی بات کی، شخصیات پر تنقید کو ادارے پر تنقید نہیں سمجھنا چاہیے۔دوسری جابن سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر آئی ایس پی آر کے واضع ردعمل کے باوجود معاملے کو الجھانے اور گھمانے کی کوشش کررہے ہیں،اسد عمر کے ٹویٹ میں موجود سوالات کا آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں پہلے سے جواب موجودہے،حقیقت میں آئی ایس پی آر نے عمران خان کے من گھڑت الزامات مسترد کیے، آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں واضح ہے ادارے کے خلاف اس طرح کی گفتگو یا الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے تھی،الزامات کے ثبوت دیے جائیں یا بدنام کرنے کی قانونی کارروائی کا سامنا کریں،آئین پاکستان ہر شخص کو اپنے اوپر الزامات کے دفاع کی ضمانت دیتا ہے،اگر کوئی غلطی پر ہے تو معاملہ عدالتوں میں لے جا یا جا سکتا ہے،ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ادارے اور اس کے افراد کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،

ادارے نے واضع کیا ہے کہ عمران خان صرف الزام لگا رہے ہیں ان کو ثبوت دینا ہوں گے ۔پولیس کے افسران کو ہٹانے کے مطالبے کی جو روایت بنی ہوئی، پاک فوج کو اس حیثیت میں نہیں لیا جا سکتا،آئین میں اداروں اور اس کی قیادت کو آئین میں تحفظ حاصل ہے کہ انہیں ا لزام تراشی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا،کسی جماعت یا شخص کو اپنی سیاست کے لیے ادارے کو پنچنگ پیڈ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…