ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مذہب کارڈاستعمال کرنے کا الزام،اپوزیشن میں پھوٹ پڑ گئی،جمعیت العلمائے اسلام نے پیپلزپارٹی پر ہی سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 22  ستمبر‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مذہب کارڈ کا جواز محض بہانہ دراصل کچھ طاقتوں کی خوشنودی نشانہ ہے،آزادی مارچ میں صرف مشترکہ یک نکاتی ایجنڈا منصفانہ نئے انتخابات کا مطالبہ ہی ہوگا، مذہب کارڈ کے استعمال کا جواز بنا کربہانے نہ بنائے جائیں،جگہ گرمہو یانرم ہماری جدوجہد جاری رہے گی،

شیخ رشید ہی گرم جگہ سے بچنے کے لیے اپنی وفاداریاں بدلتے ہیں وہ کبھی نواز شریف کے قدموں تو کبھی پرویز مشرف کے بوٹوں میں نظر آئے،شیخ رشید شیخ چلی نہ بنیں وہ گرم جگہ تو کیا بلکہ ٹھنڈی جگہ پر بھی فارغ ہوجاتے ہیں،بانی پاکستان نے تحریک آزادی کے لیے کیا مذہبی کارڈ کا استعمال نہیں کیا تھا کیا آئین کی روح کے مطابق عمل کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔  وہ اتوار کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں وائس آف امریکہ کے نمائندے محترمہ گیتی آرا اور ایک موقر روزنامے کے نمائندہ خالد صدیقی سے گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے امریکہ یاترا سے قبل امریکہ کی خوشنودی کے لیے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی مدد اور تعاون کے لیے جانے والوں کو ظالم کہا جس کو امریکہ نے سراہا کیوں کہ کشمیر میں ظلم کرنے والے بھارت کے تکون میں امریکہ اور اسرائیل شامل ہیں۔ حافظ حسین احمدنے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کا یہ کہناکہ جے یو آئی مذہب کارڈ استعمال کررہی ہے محض بہانہ ہے دراصل کچھ طاقتوں کی خوشنودی نشانہ ہے، جے یو آئی کے جانثار ورکرز اور حامی مذہبی طبقہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں ہم ان کے مذہبی جذبات اور ناموس رسالت، ختم نبوت سمیت تمام معاملات کا دفاع کریں گے لیکن آزادی مارچ میں صرف مشترکہ یک نکاتی ایجنڈا منصفانہ نئے انتخابات کا مطالبہ ہی ہوگا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تحمل کے ساتھ بلاول اور پیپلز پارٹی کے اعتراضات کا سامنا کریں گے

حالانکہ سندھ کے حوالے سے اگر وہ سندھ کارڈکو استعمال کر بھی رہے ہیں تب بھی ہم اپنے اس حوالے سے تحفظات کے باوجود ان کو گلے لگائیں گے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم، صدارتی الیکشن اور چیئرمین سینٹ کے انتخابات کے وقت بھی پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنی راہ الگ رکھی اس وقت تو مذہبی کارڈ کا بہانہ بھی نہ تھا لیکن جب اس تعاون اور اپوزیشن کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کے باوجود بھی ان کے خلاف اقدام ہوا تو کیا وہ مولانا فضل الرحمن کے پاس آکر تحریک چلانے کے لیے اصرار نہیں کرتے رہے،

ایک سوال کے جواب میں حافظ حسین احمد نے کہ بانی پاکستان نے تحریک آزادی کے لیے کیا مذہبی کارڈ کا استعمال نہیں کیا تھا اور کیا آئین پاکستان کی روح کے مطابق عمل کا مطالبہ غیر آئینی ہے، انہوں نے کہا کہ جہاں تک شیخ رشید کی شیخی بگھارنے کا تعلق ہے تو جگہ گرم ہو یا نرم ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے مولانا فضل الرحمن انشا اللہ ضائع نہیں ہونگے بلکہ وہ اور ان کے رفقا و پیروکار کامیاب و کامران ہونگے، یہ تو شیخ رشید ہی ہیں جو گرم جگہ سے بچنے کے لیے اپنی وفاداریاں بدلتے ہیں کبھی وہ نواز شریف کے قدموں میں اورکبھی جنرل پرویز مشرف کے بوٹوں میں نظر آتے تھے آج کل وہ اس عمران خان کے تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں جو ان کو چپراسی لگانا بھی نہیں چاہتے تھے، شیخ رشید شیخ چلی نہ بنیں وہ گرم جگہ تو کیا بلکہ ٹھنڈی جگہ پر بھی فارغ ہوجاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…