لندن(نیوز ڈیسک)جہازوں پر لے جائے گئے بموں سے بچنے کے لیے ایک نئے نظام کی آزمائش کی گئی ہے جسے کے دوران ڈرامائی تجربات ہوئے ہیں۔ایک آلہ جسے فلائی بیگ کہتے ہیں تیار کیا گیا ہے جو بم دھماکے کے نتیجے میں بم کے ٹکڑوں کے بکھرنے سے روکتا اور تصادمی موجوں کے اثر کو جذب کر لیتا ہے۔اس آلے کا مقصد یہ کہ اگر کسی وجہ سے سکیورٹی ناکام ہوجائے اور بم جہاز کے سامان رکھنے والے خانے میں پہنچ جائے تو دھماکے سے حفاظت کے ساتھ بچا جا سکے۔برطانیہ میں کوٹس ولڈز کے ہوائی اڈے پر پرانے جہازوں میں اس آلے کے آزمائشی تجربات سے پتہ چلا ہے کہ جہاز کے اندر دھماکوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔اس بیگ میں چار مختلف تہوں میں مواد استمعال کیا گیاہے جس میں کیوولر بھی شامل ہے جو گولی سے بچانے والی جیکٹوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہ بیگ نہ صرف کم وزن ہے بلکہ مضبوط بھی ہے اور اس میں اتنی لچک ہے کہ بھرپور دھماکے کے اثرات سے ٹوٹے بغیر نمٹ لیتا ہے۔دھماکوں سے بچنے کے لیے موجودہ ڈیزائن کے تحت سامان کے سخت خانے استعمال ہوتے ہیں جو بھاری اور مضبوط ترین دھاتوں سے بنائے جاتے ہیں۔ بہت سی فضائی کمپنیاں کہتی ہیں کہ یہ بہت بھاری اور مہنگے ہیں۔فلائی بیگ کے منصوبے پر یورپی کمیشن نے پیسہ لگایا ہے،فلائی بیگ کے منصوبے پر یورپی کمیشن نے پیسہ لگایا ہے اسے انسٹی ٹیوٹس اور مخصوص کمپنیوں کا ایک کنسورشیم چلاتا ہے۔شیفیلڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اینڈی دھماکہ خیز مواد کی انجینئرنگ کے ماہر ہیں اور اس منصوبے کا اہم کردار ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’جس طرح تجربے مکمل ہوئے ہیں اس سے ہم بہت خوش ہیں۔ ہم نے فلائی بیگ کو پہلے بھی بکسٹن کی لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا تھا لیکن کھلی جگہ پر اس کا تجربہ ابھی کیا گیا ہے۔ ‘ڈاکٹر اینڈی کے مطابق ’ہمیں پتہ تھا کہ بیگ میں پھیلاؤ آئے گا۔ سوال یہ تھا کہ ہوائی فریم میں اس پھیلاؤ سے کتنی مشکل ہوگی۔ کیا اس سے توانائی کی منتقلی تو شروع نہیں ہو جائے گی؟ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ شکمن نے ایسے ایک تجربے کو دیکھا۔وہ کہتے ہیں ’ایک بیگ میں دوسرے سامان کے ساتھ بم رکھ کر اسے فلائی بیگ میں ڈال دیا گیا اور اس فلائی بیگ کو پرانی ایئر بس 320 میں رکھ دیا گیا۔ ایک محفوظ فاصلے سے ہم نے دھماکہ ہوتے سنا لیکن دیکھنے میں کہیں کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا۔ جب ہوا تھمی اورگرد بیٹھی تو مجھے دکھایا گیا کہ کس طرح بم دھماکے سے کچھ سامان جل گیا تھا لیکن فلائی بیگ محفوظ رہا اور جہاز پر کسی اثر کا نام و نشان نہیں تھا۔‘فلائی بیگ کی ایک خاص قسم محفوظ ہے جسے تنگ جیٹ طیاروں کے سامان خانے کے اندر لٹکایا جائے گا،ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر انہی حالات اور اسی سائز کا بم کسی پرواز کے دوران پھٹتا تو یہ انتہائی تباہ کن نہ ہوتا اور جہاز پر مسافر محفوظ رہتے۔سب سے پہلے اٹلی کی فضائی کمپنی میریڈیانا نے اس فلائی بیگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسے امید ہے کہ یہ تصدیق کر دے گی کہ فلائی بیگ کی ایک خاص قسم محفوظ ہے جسے تنگ جیٹ طیاروں کے سامان خانے کے اندر لٹکایا جائے گا۔ دوسری قسم سامان خانوں کی دیواروں کے ساتھ لگائی جائے گی جنھیں کھلے جہازوں کے اندر رکھا جا سکتا ہے۔تیسری قسم جو کافی چھوٹی ہے اسے مسافروں کی نشستوں والے حصے رکھا جائے گا۔اٹلی کی مشاورتی کمپنی ڈی اپولونیا کے پروجیکٹ کے رابطہ کار ڈینٹو زنگانی کہتے ہیں ’مارکیٹ میں آنے کے لیے ہمارے پاس سب کچھ تیار ہے۔ ہمیں نظام کی کامیابی کے ثبوت میں صرف ان تجربات کی ضرورت تھی جو ہوگئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں لیکن اس کے اندر جو مواد استعمال ہوا ہے ،
جہاز میں بم دھماکے سے بچانے والا فلائی بیگ تیار کر لیا گیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے کیسز کی بڑی وجہ سامنے آگئی، نئی تحقیق
-
موٹرویز نیٹ ورک میں اہم پیش رفت، ایم 13 موٹروے سے لاہور اسلام آباد کے سفر میں تقریباً 100 کلومیٹر ک...
-
بالی ووڈ اداکارہ کا اکشے کمار سے متعلق چونکا دینے والا انکشاف
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
دنیا کا سب سے بڑا غار
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی
-
حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا



















































