جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

منگلا اور تربیلا ڈیم ،وارننگ جاری،تشویشناک خبر سنادی گئی

datetime 28  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی)ارسا نے خبردار کیا ہے کہ خشک سالی کے سبب منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول کے قریب ہے،پاکستان میں جاری طویل خشک سالی اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے سے گندم کی کاشت متاثر ہو رہی ہے جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ میں بھی تیز بارشوں کا امکان نہیں ۔بی بی سی کے مطابق ارسا کے ترجمان خالد رانا نے بتایا کہ آبی ذخائر میں موجودہ پانی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال ربیع کے موسم میں 17فیصد پانی کی کمی کی پیشگوئی کی گئی تھی لیکن خشک سالی کی وجہ سے پانی کے دستیاب ذخائر میں مزید کمی کا امکان ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ تین ماہ سے جاری خشک سالی فوری کے طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں ۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول نے بتایا کہ خشک سالی کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سال 2015ء سے 2016ء میں موسمیاتی پیٹرن النینو کی وجہ سے ملک میں بارش نہیں ہو رہی ہے اور یہ خشک سالی کب تک جاری رہے گی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔یاد رہے کہ سال 2016ء گرم ترین سال ہے اور اس حدت کے اثرات پاکستان پر بھی نمایاں ہے۔

خشک خالی کی وجہ سے بارش پر انحصار کرنے والے بارانی علاقے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق النینو کی وجہ سے خشک سالی کے بارے میں تمام متعلقہ اداروں کو قبل از وقت آگاہ کر دیا تھا۔ڈی جی محکمہ موسمیات غلام رسول نے بتایا کہ کئی بارانی علاقوں میں کاشتکاروں نے زمین میں موجود پانی کو زیر استعمال لاتے ہوئے مختلف سبزیوں کو متبادل فصل کے طور پر کاشت کیا ہے لیکن بارش کا انتظار کرنے والے کاشت کار گندم کی فصل کاشت نہیں کر سکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال موسم سرما میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب، خیبر پختوانخوا ہ اور بلوچستان کے بارانی علاقوں میں وقت پر بارش نہ ہونے کے سبب گندم کی کاشت متاثر ہوئی ہے۔ارسا کے ترجمان خالد رانا نے بتایا کہ دریائے جہلم اور چناب میں پانی کی اوسط آمد دس لاکھ کیوسک کے مقابلے اب کم ہو کر محض 6 ہزار کیوسک یومیہ رہ گئی ہے۔

خالد رانا کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور چناب میں پانی کے بہا ؤمیں کمی اور منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح کم ہونے کے سبب بالائی، زیریں اور وسطی پنجاب میں نہری پانی پر انحصار کرنے والے کاشتکاروں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔پنجاب کے ان علاقوں کا شمار زرخیز علاقوں میں ہوتا ہے اور یہاں ربیع کے موسم اہم ترین فصل گندم کاشت کی گئی ہے۔

میدانی علاقوں میں بارشوں کی کمی کے ساتھ ساتھ پہاڑوں پر برفباری بھی کم ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پہاڑی علاقوں میں 50 فیصد کم برف پڑی ہے۔یاد رہے 1997ء سے 1998ء کے النینو کے بعد پاکستان کی حالیہ تاریخ میں سے طویل ترین خشک سالی ہوئی جو تین سال کے عرصے پر محیط ہے۔پاکستان کے آبی ذخائر میں اوسط 30 دن کی ضرورت کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں اتنی کم مدت کے لیے پانی کا ذخیرہ بہت کم ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…