ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سمیت 4اسلامی ممالک کا شاندار کام ۔۔۔ حلال اور حرام کی پہچان اب نہایت آسان ۔۔۔ کس طرح ؟ جان کر آپ بھی داد دیں گے

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی ) پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی نے مقامی و در آمداتی اشیا ئے خور دو نوش میں استعمال ہونے والے اجزاء کے ای کوڈز یا آئی این ایس، انٹرنیشنل نمبرنگ سسٹم کے تجزیہ پر مشتمل 205صفحات کارہنمائی کتابچہ شائع کر دیا ہے جس میں تمام اشیا کے کوڈز کی تفصیل دی گئی ہے کہ وہ شرعی نقطہ نظر سے حلال، حرام یا مشبوہ (مشکوک )ہے۔ واضح رہے ای کوڈز کسی چیز کی پیکنگ یا ریپر پر دیے گئے ان نمبرزکو کہتے ہیں جو جگہ کی قلت کے باعث اجزا کا پورا نام لکھنے کی بجائے صرف نمبر ز لکھ دیے جاتے ہیں، پاکستانی قانون کے مطابق تمام اشیا خورد نوش پر اجزائے ترکیبی، ای کوڈز یا آئی این ایس کوڈ لکھنا ضروری ہے۔E-Codes analysis کے لئے ایک سال قبل پنجاب حلال ایجنسی نے چار ممالک کے حلال سیکٹر کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں تھائی لینڈ کے ڈاکٹر وینائی ڈھلن، ملیشیا کے عبد الرحمٰن یوسفی، پاکستان سے جسٹس خلیل الرحمٰن اور ڈاکٹر فقیر انجم اور انڈونیشیا سے حلال سیکٹر کے ماہرین شامل تھے۔ اس کمیٹی نے Codes کا تجزیہ کیا وہ کن اجزا کے لئے استعمال ہوتے ہیں اس عمل میں نامور مذہبی سکالرز سے رہنمائی بھی لی گئی۔کوڈز کی آن لائن تصدیق کے لئے http://phda.com.pk/index.php/e-code-traceability/ لینک پر جا کر کسی بھی چیز کی پیکنگ یا ریپر پر دیئے گئے اجزائے ترکیبی کے ای کوڈزکو سرچ مینیو میں لکھیں اور فوری طور پر اس کا نتیجہ سامنے آ جائے گا جس سے اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ یہ چیز حلال، حرام یا مشبوہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ کتاب حلال ایجنسی کے دفتر واقع شاہین کمپلیکس سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی کے چیرمین جسٹس خلیل الرحمٰن خان نے کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا کھانا پینا، رہنا اور زندگی کے دیگر امور شریعت کے مطابق ہونے چاہئیں مگر آ ج کے جدید دورمیں عوام کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جو چیز کھا رہے ہیں اس کے اجزائے ترکیبی حلال ہیں یا حرام لہذا اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے حلال ایجنسی نے ای کوڈز کے تجزیہ پر مشتمل کتا ب شائع کی ہے جو مختلف اشیا کے پروڈیوسرز اور عام صارف کے لئے نہایت مفید ثابت ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…