بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

انڈین این جی او’’ دی آرٹ آف لونگ ,کی سرگرمیاں مشکوک قرار

datetime 2  جولائی  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے خفیہ اداروں کی رپورٹس پر پاکستان میں کام کرنیوالی انڈین این جی او’’ دی آرٹ آف لونگ کی سرگرمیوں کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اس این جی او کے سربراہ شری روی شنکر کی پاکستان آمداور انکے پاکستان میں براہ راست لیکچرز پر بھی پابندی لگا دی ہے جبکہ اس این جی او میں کام کرنے والے پاکستانی شہریوں کے بھی کوائف جمع کرنا شروع کر دیئے گئے ہیں، انتہائی باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’را‘‘ نے پاکستان میں بااثر افراد تک رسائی کےلیے اس این جی او کا سہارا لیا اور روی شنکر کا انتخاب کیا گیا کہ وہ روحانی علاج کے ذریعے پاکستان میں اپنا اثر ورسوخ پیدا کریں، تاہم خفیہ اداروں کو جیسے ہی روی شنکر کے عزائم کا علم ہوا تو حساس اداروں نے این جی او کے تمام دفاتر سے ریکارڈ اکٹھا کیا، جس سے اس این جی او کے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے شواہد ملے، معلوم ہوا ہے کہ روی شنکر نے ’’یوگا‘‘ کی تربیت کے لیے لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں مختلف افراد کو تربیت دی، اس این جی او کی آفیشل ویب سائٹ پر خدا تعالیٰ کے حوالے سے بھی متنازع باتیں لکھی گئی ہیں، اس این جی او کے ذریعے ہندو ازم کے فروغ اور روحانی قوت پیدا کرنے کےلیے بعض ایسی ادویات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔روی شنکر کے بھارتی وزیر اعظم سے گہرے تعلقات ہیں، اس این جی او کے پلیٹ فارم سے ’’را‘‘کے تربیت یافتہ افراد پاکستان آئے ،بعدازاں اس غیر سرکاری تنظیم نے چندہ لے کر 2 اہم عمارتیں بھی بنائیں جہاں باقاعدہ اس این جی او کی میٹنگز ہوتی تھیں، اس این جی او کے پلیٹ فارم سے لاکھوں کی تعداد میں اس کے ہم خیال رضا کار بنانے کی مہم شروع کی گئی اور پھر باقاعدہ اہم میٹنگز میں’’ گیتا‘‘بھی پڑھی جانے لگی اور روحانیت کے نام پر اسلام دشمن لیکچرز دیئے جانے لگے ، اس این جی او کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے والے ایک اہم وزارت داخلہ کےآفیسر نے بتایا کہ یہ این جی او اب پاکستانی نوجوانوں کو بھی ٹارگٹ کر رہی تھی اور سال میں ایک بار مخصوص افراد کو ملک سے باہرلے کر جایا جاتا تھا، جہاں’’را‘‘ کے افسر انہیں لیکیچر دیتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…