اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

بینک صارفین کی معلومات چوری کرنے والے ہیکرز ، خواتین کی وڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کا بھی انکشاف، ایف آئی اے نے تفصیلات جاری کر دیں

datetime 14  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)ایف آئی اے نے مبینہ طورپر جعلی اے ٹی ایم، کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بینک صارفین کی معلومات اور رقم چوری کرنے میں مطلوب چار مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طورپر جعلی اے ٹی ایم، کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بینک صارفین کی معلومات اور رقم چوری کرنے میں مطلوب تھے۔

واضح رہے 8 دسمبر کو ایف آئی اے سائبر کرائم نے راولپنڈی سے ثاقب اللہ کے نام سے ایک شخص کو جعلی کریڈٹ کارڈ بنانے اور کریڈٹ کارڈ کی معلومات چوری کرنے اور نجی ویڈیوز کے ذریعے خواتین کو بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ملزم ثاقب اللہ بھارتی ہیکرسارو، کینیڈا، نائیجیریا اور اطالوی ہیکرز سے رابطے میں تھا جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنے معاونین کے ساتھ فراڈ کا کاروبار چلا رہا تھا۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مطلوبہ چار ملزمان کا تعلق بھی اسی گروپ سے ہوسکتا ہے۔ایف آئی اے حکام نے تفتیش کے پیش نظر گرفتار ملزمان کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم انہوں بتایا گیا ہے کہ چاروں ملزمان کو راولپنڈی اور اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا جن میں سے دو ملزمان آن لائن درآمدات کا بزنس کرتے تھے اور اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ گرفتار مبینہ ملزمان میں ایک گریجویٹ جبکہ دیگر کالج کے طالبعلم ہیں۔ایف آئی اے نے بتایا کہ ضلع قصورمیں رینا لہ خورد کے ایک بینک میں استعمال ہونیوالا اسکمر بھی ملزمان کے قبضے سے برآمد کیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ دو ملزمان بینک صارفین کی ذاتی معلومات کا ڈیٹا جمع کرتے تھے جبکہ دو ملزمان حاصل شدہ معلومات کے ذریعے رقم کی چوری میں ملوث تھے۔بینک کے ایک سینئر ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزمان جمعہ کی علی الصباح اے ٹی ایم میں اسکمر نصب کردیتے ہیں جو اتوار کی شام کو نکال لیا جاتاہے۔ بینک ملازم نے بتایا کہ بینک ہفتہ اور اتوار کو بند ہوتے ہیں اور صارفین کی بڑی تعداد اے ٹی ایم سے اپنی رقم نکالتے ہیں اس لئے فراڈ میں ملوث افراد کو بہت مواد مل جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے ٹی ایم فراڈ پر بینک ایف آئی اے سے رابطہ نہیں کرتا اور خود ہی اسکمر کو ہٹا دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے ٹی ایم سے چوری ہونیوالی رقم انشورڈ ہوتی ہے اس لئے بینک ایف آئی اے کو معاملے میں شامل نہیں کرتا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…