پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

پیرس کے تاریخی نوترے ڈیم کیتھڈرل میں خوف ناک آتش زدگی سے شدید نقصان، لاٹ گر گئی

datetime 16  اپریل‬‮  2019 |

پیرس (این این آئی)فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع تاریخی نوترے ڈیم کیتھڈرل میں لگی خوف ناک آگ پر کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا ۔آگ سے تیرھویں صدی کی اس تاریخی عمارت کی چھت اور بالائی حصے کو نقصان پہنچا ہے اور اس کی مخروطی لاٹ گرگئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عینی شاہدین نے بتایاکہ آگ لگنے کے بعد اس کی لاٹ عمارت کے ایک جانب لڑھک گئی تھی۔

اور پھر وہ جلتی ہوئی چھت پر گئی تھی۔فرانسیسی حکام نے منگل کو علی الصباح بتایا کہ کیتھڈرل میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کئی ایک تاریخی نوادر کو بچا لیا گیا ہے۔فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے اس تاریخی کیتھڈرل کے سامنے کے حصے اور ٹاوروں کو بچانے پر آگ بجھانے والے عملہ کی تعریف کی اور کہا کہ بدترین واقعہ کو رونما ہونے سے روک لیا گیا ہے۔انھوں نے نوترے ڈیم کی تعمیرِنو کے لیے بین الاقوامی سطح پر رقوم اکٹھا کرنے کی مہم شروع کرنے کا وعدہ کیا ۔انھوں نے کہاکہ نوترے ڈیم ہماری تاریخ ہے، ہمارا ادب ہے ،یہ ہمارا تشخص ہے۔اسی جگہ پر ہم اپنے عظیم تر لمحات میں رہے ہیں۔جنگوں اور آفات سے آزادی تک ، یہ ہماری تاریخ ہے اور یہ جل گئی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ اس سے ہمارے بہت سے فرانسیسی بہت دل گرفتہ ہوئے ہیں۔کیتھڈرل میں خوف ناک آتش زدگی کی اطلاع ملنے کے بعد فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے اپنا قوم سے خطاب منسوخ بھی کردیا ہے۔وہ سوموار کی شب یہ تقریر کرنے والے تھے۔فوری طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ البتہ حکام کا کہنا تھاکہ اس گرجا گھر کے بالائی حصے میں 60 لاکھ یورو کی لاگت سے تزئین نو کا کام جاری تھا۔فرانسیسی میڈیا نے پیرس فائر بریگیڈ کے حوالے سے کہا کہ اس آگ کا ممکنہ طور پر اسی تزئین نو کے کام سے تعلق ہے۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق رومن کیتھو لک کے اس گرجا گھر کی چھت پر آگ لگنے کے بعد شعلے اور زرد رنگ کا دھواں بلند ہونا شروع ہوگیا تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی تھیں اور چار سو سے زیادہ فائر فائٹرآگ کو تمام عمارت اور بالخصوص سامنے کے حصے تک پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔تاہم دن کے مصروف اوقات میں آگ لگنے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دقت

پیش آئی ۔یادرہے کہ نوترے ڈیم کا سنگ بنیاد 1163 عیسوی میں پوپ الیگزینڈر سوم نے رکھا تھا اور اس کی عمارت تیرھویں صدی میں مکمل ہوئی تھی۔اس کے خوب صورت عمارتی ڈھانچے ، ٹاورز اور لاٹ کی وجہ سے اس کو فنِ تعمیر کا شاہکار اور فرانس کی ایک اہم مذہبی اور ثقافتی علامت سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…