لکھنﺅ(نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک شخص نے مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی طرح اپنی مرحومہ بیوی کی یاد میں ایک تاج محل تعمیر کیا ہے تاکہ اس کی محبت کے جذبے کو بھی دنیا بھر میں یاد رکھا جائے۔تاج محل کو دنیا بھر میں محبت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے جسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ کی موت کے بعد اس کی یاد میں 1631ءسے 1648 ءکے درمیان بنوایا تھا اسی طرح یوپی کے ایک 80 سالہ شخص فیض الحسن قادری نے اپنی اہلیہ کی یاد میں ایک تاج محل بنوایا ہے یہ تاج محل اصل سے ذرا چھوٹا ہے اورکسی خوبصورت دریا کے کنارے بھی نہیں اور نہ اس میں کندہ کاری کا کام ہے اور نہ یہ قیمتی پتھروں سے مزین ہے البتہ جذبہ وہی ہے جو شاہ جہاں کا تھا یعنی اپنی اہلیہ سے بے پناہ محبت کا۔آگرہ سے تقریباً 100 میل دور بلند شہر کے ایک چھوٹے سے گاو¿ں میں واقع اس تاج محل کی تعمیر میں 3 سال کا عرصہ لگا جس میں ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر فیض الحسن کی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ ہوچکی ہے اور یہ رقم ایک کروڑ 10 لاکھ بھارتی روپے سے زائد ہے۔ فیض الحسن کی اہلیہ 2011 میں انتقال کر گئی تھیں اور یہ تاج محل ان کی تدفین کی جگہ بنایا گیا ہے جہاں فیض الحسن نے اپنی محبوب اہلیہ کی قبر کے ساتھ اپنی قبر کے لیے بھی جگہ مختص کررکھی ہے۔
فیض الحسن نے اس تاج محل کی تعمیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی مرحومہ اہلیہ کی یادمیں بنایا ہے جس کے ساتھ انہوں نے زندگی کے 53 سال گزارے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی جس کی وجہ سے ان اہلیہ کو یہ فکر رہتی تھی کہ مرنے کے بعد ہمارا کوئی ذکر بھی نہیں کرے گا، کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا۔ اس لیے انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کا انتقال مجھ سے پہلے ہوگیا تو وہ ان کے لیے ایسا مقبرہ بنوائیں گے کہ لوگ برسوں یاد رکھیں۔عمارت پر آنے والی لاگت کی وجہ سے فیض الحسن کو اب مالی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کا تمام سرمایہ اور جمع پونجی اس کی تعمیر میں خرچ ہوچکی ہے۔ ریاستی حکومت اور بعض افراد کی جانب سے انہیں اس تاج محل کی تعمیر کے لیے امداد کی بھی پیشکش کی گئی تھی تاہم فیض الحسن نے کسی سے بھی امداد لینے سے انکار کردیا اوران کا کہنا ہے کہ یہ کسی کا مزار یا کوئی خانقاہ یا عبادت گاہ نہیں یہ ان کی اہلیہ کا مزار ہے اور اگر وہ کسی سے کوئی پیسہ لے کر اس میں لگاو¿ں توکہا جائے گا کہ یہ قبر چندے کی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو البتہ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ گاو¿ں میں موجود اسکول کو تعیلمی بورڈ سے منظور کروائے تاکہ یہاں کہ طالب علموں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے۔جس طرح آگرہ کے قلعے میں قید شاہ جہاں کو تاج محل صاف نظر آتا تھا اسی طرح اپنے کمرے کی کھڑکی سے فیص الحسن بھی اپنا تاج محل دیکھ سکتے ہیں۔ جیسے جیسے اس نئے تاج محل کی خبر پھیل رہی ہے ویسے ویسے آس پاس کے دیہات سے لوگ اسے دیکھنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور اترپردیش کے اس دوردراز گاو¿ں میں شاہ جہاں اور ممتاز محل کی محبت کی طرح ایک اور داستان جنم لے رہی ہے۔
بھارتی شہری نے بیوی کی یاد میں ایک اور ”تاج محل“ تعمیر کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
معروف ریسلر ، ریسلنگ کے دوران چل بسے
-
سمارٹ لاک ڈاؤن، شاپنگ مالز اور بازاروں کیلئے نئے اوقات جاری
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، یو اے ای سے اہم پیش رفت
-
محکمہ موسمیات نے آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی
-
فیصل قریشی کے تیزی سے کم ہوتے وزن نے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا
-
برطانوی ٹیم کی اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹس آمد، ویزا کے باوجود کئی مسافر آف لوڈ کرادیے
-
600 روپے کا پیٹرول ڈلوانے پر صرف 100 روپے ادا کرنے ہوں گے!وزیراعظم اسکیم کے تحت بڑا ریلیف
-
26 اور 27 ستمبر کو موبائل سروس بند، اہم شہروں کے نام سامنے آگئے
-
وفاق کی ایک اہم شخصیت کا پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ، لانگ مارچ پر درمیانی راستہ نکالنے پر غور
-
سونے اور چاندی کے نرخ نیچے آگئے، تازہ اعداد و شمار جاری
-
پنجاب کے شہری علاقوں میں صفائی فیس وصولی کا نیا میکنزم متعارف



















































