جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

موت کا سبب بننے والی ذیابیطس کی دوا بنانے والی کمپنی پر جرمانہ عائدکر دیا گیا 

datetime 29  مارچ‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)یورپی ملک فرانس کی عدالت نے دوا ساز کمپنی کا خطرناک منفی اثرات رکھنے والی دوا تیار کرنے اور اس دوا کے استعمال سے درجنوں افراد کے ہلاک ہوجانے پر کمپنی پر جرمانہ عائد کردیا۔عالمی میڈیا کے مطابق فرانسیسی عدالت نے دوا ساز کمپنی کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بنائی گئی دوا کے ناقص اور موتمار ہونے کے جرائم ثابت ہونے پر جرمانہ عائد کیا جب کہ

کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی قید کی سزا سنائی۔عدالت نے فرانسیسی ملٹی نیشنل کمپنی (سرویئر) پر 32 کروڑ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 50 ارب روپے کے قریب جرمانہ سنایا ، کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی قید کی سزا سنائی، تاہم عہدیداروں کی سزا غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔عدالت نے کمپنی کے دو اعلیٰ عہدیداروں کو 3 اور 4 سال کی سزا سمیت بھاری جرمانے کی سزا بھی سنائی، تاہم فوری طور پر ان کی سزا غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔فرانسیسی عدالت نے ناقص دوا کی سرعام مارکیٹ میں کئی سال تک فروخت ہونے پر فرانس کی حکومتی ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی پر بھی تقریبا 36 لاکھ امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا۔29 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران فرانسیسی دوا ساز کمپنی نے ذیابیطس کی دوائی پر لگائے جانے والے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو دوا کے اتنے شدید منفی اثرات کا علم نہیں تھا۔عدالت نے کمپنی کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بنائی گئی گولیوں (Mediator) کے ناقص اور اس کے شدید منفی اثرات پر جرمانے کی سزا سنائی۔فرانسیسی کمپنی نے (Mediator) کو 33 سال تک 2009 تک فروخت کرتی رہی تھی، مذکورہ گولیوں کے شدید منفی اثرات پر ماہرین صحت نے 1997 میں ہی آوازیں اٹھانا شروع کی تھیں۔فرانسیسی کمپنی کی جانب سے تیار کی گئی (Mediator) گولیوں کو ذیابیطس کے مریضوں کو دیا جاتا تھا، تاکہ ان کا وزن کم ہو مگر بعد ازاں ماہرین صحت نے گولیوں کے شدید منفی اثرات میں دیکھا کہ گولیاں دل کے دورے اور پھیپھڑوں کے ختم ہونے سمیت دیگر موضی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 33 سال کے دوران مذکورہ گولیوں کو یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے 50 لاکھ مریضوں نے استعمال کیا اور ان گولیوں کے شدید منفی اثرات سے 500 سے 2 ہزار اموات ہوئیں۔مذکورہ گولیوں کو کمپنی نے 2009 میں اس وقت بند کردیا تھا جب گولیوں کے منفی اثرات سے فرانس میں ہلاکتوں میں اضافہ ہوا اور زیادہ تر ہلاکتوں کی نشاندہی ایک خاتون ڈاکٹر نے کی تھی۔علاج کے بجائے لوگوں کو موت میں دھکیلنے والی گولیاں بنانے پر فرانسیسی کمپنی کے خلاف 2019 میں ٹرائل شروع کیا گیا جس کا فیصلہ 29 مارچ 2021 کو سنایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…