بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کچھ بچوں کے دانت دوسروں کے مقابلے میں زیادہ خراب کیوں ہوتے ہیں؟

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

آسٹریلیا(مانیٹرنگ ڈیسک)اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے کم از کم ایک چوتھائی بچوں کے دانت سڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب منہ میں موجود بیکٹیریا چینی کو توڑ کر تیزاب بناتے ہیں جو دانتوں پر حملہ کرکے انہیں گھولنا شروع کردیتا ہے۔ میٹھی چیزوں سے پرہیز کرنا اور عمر کے حساب سے فلورائیڈڈ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بچوں میں صحتمند دانت یقینی بنانے کا اب بھی بہترین طریقہ ہے۔

مگر والدین کی زبردست کوششوں کے باوجود بھی چند بچوں کے دانت قدرتی طور پر دوسرے بچوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں اور آسانی سے خراب ہوجاتے ہیں۔ آسٹریلیا میں ہونے والی حالیہ تحقیقوں کے مطابق اسکول کی عمر سے چھوٹے 14 فیصد بچے ہائپومنرلائزڈ سیکنڈ پرائمری مولرز (ایچ ایس پی ایم) (hypomineralised second primary molars” (HSPM کا شکار ہوتے ہیں جس سے بچوں کے دانتوں کی باہری سطح درست طریقے سے نشونما نہیں پاتی اور وہ کمزور ہوجاتے ہیں اور ان کی خرابی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔  بچوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ ایچ ایس پی ایم کے شکار بچوں کے دانتوں پر سفید یا پیلے دھبے اور کھردرا پن نمودار ہوجاتا ہے کیونکہ ان جگہوں سے اینامل یا باہری خول ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ یہ دانت اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ وہ چبانے کا کام مناسب انداز میں نہیں کر پاتے اور مسوڑوں سے باہر آنے پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ دانت اکثر انتہائی حساس ہوتے ہیں اور بچے ان میں اٹھنے والے درد کی وجہ سے انہیں برش کرنے سے کتراتے ہیں۔ چونکہ دانت پہلے ہی کمزور ہوتے ہیں، اس لیے برش نہ کرنے کی وجہ سے یہ مزید تیزی سے خراب ہوجاتے ہیں۔ اینامل سے چپک جانے والی فلنگ کے عمومی طریقے بھی کام نہیں کرتے کیونکہ اینامل کافی خراب ہوتا ہے۔ اس لیے ان بچوں کو بار بار ڈینٹسٹ کے پاس جانا پڑتا ہے۔ چنانچہ سائنسدانوں نے پایا ہے کہ بچوں میں ڈینٹسٹ کے پاس جانے سے متعلق اینگزائٹی اور فوبیا میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وجوہات دانتوں کا اینامل دانتوں کے مسوڑوں سے باہر آنے سے قبل ہی تیار ہوجاتا ہے۔ بچوں کی داڑھیں حمل کے درمیانی عرصے میں بننا شروع ہوتی ہیں اور پیدائش تک مکمل ہوجاتی ہیں۔ کھال اور ہڈی کے برعکس دانتوں کا اینامل قدرتی طور پر ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

اس لیے جب 2 سال کی عمر تک دوسری پرائمری داڑھیں مسوڑوں سے باہر آتی ہیں تو اینامل کی خرابی وہیں موجود ہوتی ہے۔ 2 سال کی عمر تک بچوں کو دانتوں کا چیک اپ تجویز کیا جاتا ہے مگر صرف 3 میں سے ایک بچہ 4 سال کی عمر تک ڈینٹسٹ کے پاس جا پاتا ہے۔ نقصان کے شکار دانت اکثر تب تک توجہ میں نہیں آتے جب تک وہ ٹوٹ نہ جائیں یا انفیکشن کا شکار نہ ہوجائیں۔

اس صورتحال میں انہیں نکالنا پڑتا ہے۔ جڑواں بچوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ یہ وجوہات ضروری نہیں کہ جینیاتی ہوں بلکہ ان کی وجوہات حمل یا دورانِ پیدائش ہونے والی کوئی چیز بھی ہوسکتی ہے۔ ایچ ایس پی ایم کا تعلق حمل کے دوران بیماری، سگریٹ اور شراب نوشی سے قائم کیا تو گیا ہے مگر اب بھی اس تعلق کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق جاری ہے۔ علاج اینامل کو کمزور کرنے والی وجوہات کا مطلب ہے کہ جہاں صحت بخش غذا اور باقاعدگی سے برش کرنا دانتوں کی

اچھی صحت کے لیے مددگار ہوتے ہیں وہیں اضافی حفاظتی تدابیر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈینٹسٹ دانتوں کے ٹوٹنے سے قبل ان کے کمزور ہونے کی علامات کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ وہ دانتوں کو سیل یا فلنگز لگا کر محفوظ بناسکتے ہیں جس سے کمزور حصے ڈھک جائیں۔ شدید متاثر دانتوں میں علاج کے لیے وقت کم ہوتا ہے اس لیے باقاعدگی سے ڈینٹسٹ کے پاس جانا بہت اہم ہے۔ بچوں کو ڈینٹسٹ کے پاس 12 ماہ کی عمر میں پہلی بار لے جانا چاہیے یا پھر تب جب دانت پہلی بار باہر آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…