جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

چکن کھانے کے شوقین ہوشیار !!خطرناک اینٹی بائیوٹکس مزاحم بیکٹیریا کے پھیلنے کاانکشاف

datetime 6  دسمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک )برطانیہ کے ماہرین نے سپر بگ جو دراصل بیکٹریا کی ایک قسم سلمونیلا ہے کو ایک مریض کے خون میں دریافت کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ماہرین نے ڈنمارک کے ایک مریض کے خون میں سلمونیلا کے اثرات پائے ہیں جو ایک لاعلاج خون کے انفیکشن کی وجہ ہے۔ماہرین نے اس لا علاج انفیکشن سے پوری دنیا کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق چین سے درآمد ہونے والی مرغیوں کو اس انفیکشن کی وجہ بتایا جا رہا ہے کیونکہ ماہرین کو اس مرغیوں کے گوشت کے 5 سمپلز میں لاعلاج سلمونیلا کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ڈنمارک کے سائنسدانوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ یہ بگ برطانیہ میں پہلے سے موجود نہیں تھا حالانکہ برطانیہ ڈنمارک سے کہیں زیادہ بڑا ملک اور خوراک کی تجارت میں بھی ڈنمارک سے آگے ہے۔رپورٹ کے مطابق اس انفیکش کی مریض میں دریافت چین کے اعلان کے دو ہفتے بعد ہوئی کہ سپر بگ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحم ہیں۔چین کے سائنسدانوں نے خبردار کیا کہ یہ سپر بگ بہت تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم برطانیہ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے یہ انفیکشن چین سے برطانیہ تک پہنچا ہے واقعی حیران کن ہے۔ماہرین کی رپورٹ کے مطابق جین ایم سی آر 1 جو ،ای کولائی، سلمونیلا اور دیگر جرمز میں موجود ہوتا ہے لا علاج نمونیا کا باعث بنتا ہے۔اس جین کی بیکٹریا میں موجودگی بیکٹریا کو ہر طرح کی اینٹی بائیوٹیک کے خلاف مزاحم بنا دیتی ہے۔یہ بگ آسانی سے ایک بیکٹیریا سے دوسرے بیکٹیریا میں پھیل سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ سپر بگ کی جانوروں سے انسانوں میں منتقلی آسانی سے ہو سکتی ہے۔جین ایم سی آر1 کی مزید تحقیق کرنے پر چینی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ جین مرغیوں کے 5 سپملز اور ایک مریض کے خون میں پایا گیا ہے۔ماہرین کی رپورٹ کے مطابق اس انفیکشن سے متاثرہ شخص کئی سال سے خون کے انفیکش کا شکار تھا اور رپورٹ میں اس کے خون میں موجود سلمونیلا میں جین ایم سی آر 1 پایا گیا۔ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ اس انفیکشن کا شکار مریض کے پاس علاج کا کوئی آپشن موجود نہیں ہوتا تاہم کولسٹین وہ آخری چوئس ہے جسے اس طرح کی بیماری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔کولسٹین پولٹری میں بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے اور اس اینٹی بائیوٹیک کے زیادہ استعمال سے بیکٹریا اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔
ماہرین نے کولسٹین کو ایگریکلچر میں استعمال کو کم کرنے کا حکم دیا ہے اور یورپ کے ماہرین نے اس سپر بگ کے خلاف ادویات بنانے کے لیے کوشش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…