اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

موروثی جراثیم کابریسٹ کینسر کے علاج سے کوتعلق نہیں ، تحقیق

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) عام طورپر ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خواتین جنہیں وراثت میں بریسٹ کینسر کے جراثیم ملیں، انہیں علاج کے باوجود بھی کینسر کا خطرہ موجود رہتا ہے تاہم اب ماہرین نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ اس مرض کے علاج کے بعد پیدا ہونے کے امکانات کاوراثت میں ملنے والے جراثیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسی خواتین کو اس مرض کا شکار دیگر خواتین کے مقابلے میں کسی قسم کے خطرناک نتائج کا سامنا نہیں ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف ساو¿تھیمپٹن میں ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے بریسٹ کینسر رمزے کٹریس نے یہ تحقیق کی ہے۔ پروفیسر رمزے کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کی روشنی میں بریسٹ کینسر کا شکار خواتین کو پورے اعتماد کے ساتھ یہ تسلی دی جاسکتی ہے کہ انہیں وراثت میں ملنے والے جراثیم کی وجہ سے کوئی اضافی خطرہ نہیں ہے۔اس مرض سے نجات کیلئے دستیاب ٹریٹمنٹ ان خواتین کیلئے جن کے جینز میں اس مرض کا شکارہونے کا امکان ہے ، بھی اسی قدر موثر ہیں جتنا کہ دیگر خواتین کیلئے۔ واضح کہ بریسٹ کینسر اور اورین کینسر اگرچہ خاندانی امراض نہیں ہیں تاہم ان دونوں امراض کا شکار خواتین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ان کے اس مرض کا شکار ہونے کے بعد ان کی آئندہ نسلوں کی خواتین کے اس مرض کا شکار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس مقصد کیلئے پروفیسر رمزے نے اٹھائیس سو خواتین کے کیسز کا جائزہ لیا تھا۔ یہ تمام خواتین 41برس سے کم عمر تھیں اور ان میں بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج ہوچکا تھا۔ ماہرین نے پایا کہ وہ خواتین جن کے خاندان میں اس مرض کی تاریخ موجود تھی، ان کے جسم میں دیگر خواتین کے جسم کی نسبت بطور خاص کوئی تبدیلیاں نہ تھیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے اب اپنی تحقیق کو جینز اور ٹریٹمنٹ کے طریقے کار کے بیچ تعلق کو تلاش کرنے کیلئے اسی تحقیق کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…