ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پٹرول کی قیمت مزید بڑھنے پر حامد میر بھی خاموش نہ رہ سکے

datetime 16  جون‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، آن لائن) سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے لکھا “اُف پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا ہے “ساتھ ہی ماہرانہ انداز میں حکومت کے تھوڑے تھوڑے فارمولا کو بھی و​​اضح کیا اور

گزشتہ3 ہفتوں میں حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو بھی لکھا30+30+24=84روپے فی لیٹر اضافہ اور وہ بھی صرف ایک مہینے سے بھی کم وقت میں ۔دوسری جانب سینئر صحافی اقرار الحسن نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیااور ٹویٹر اکائونٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ “بھئی اگر پٹرول کی قیمتیں پاگل پن کی حد تک بڑھا کر اور سارے کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال کر ہی معیشت بچانی تھی جو کہ پھر بھی سنبھلتی نظر نہیں آتی تو یہ کام تو گلی میں پکوڑے بیچنے والابھی کر سکتا تھا اس کے لیے اچھے ایڈمنسٹریٹر کی کیا ضرورت ؟یاد رہے کہ اتحادی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا ہے ،پیٹرول کی قیمت 24 روپے تین پیسے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت 59 روپے فی لیٹر بڑھا دی ۔گذشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت 24 روپے تین پیسے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت 59 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے۔پیٹرول کی نئی قیمت 233 روپے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی نئی قیمت 263 روپے 31 پیسے ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ لائٹ ڈیزل 29 روپے 61 پیسے جب کہ مٹی کا تیل 29 روپے59 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج بروز جمعرات سے ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…