جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

جارح مزاج سمندری بگلے مصیبت بن گئے

datetime 4  اگست‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک )انگلستان کے ساحلی علاقوں کے رہائشی طویل عرصے سے پریشان ہیں۔ان کی پریشانی کا سبب بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت اور روزافزوں بڑھتی مہنگائی نہیں، کیوں کہ یہ مسائل تو پاکستانی قوم سے مخصوص ہیں؛ دراصل سمندری بگلوں ان کی ناک میں دم کر رکھا ہے! انگلستان کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں پائے جانے والے بگلے انتہائی جارحانہ مزاج رکھتے ہیں۔
ان کی جارحیت کا نشانہ ساحلی پٹی میں بسنے والے لوگ بنتے ہیں۔ کورنوال، ڈیون اور دوسری کانٹیوں میں انسانوں پر ان پرندوں کے حملے معمول بن چکے ہیں۔ انسان تو انسان، پالتو جانور بھی ان کی جارحیت سے محفوظ نہیں۔جارح مزاج سمندری بگلے راہ چلتے ہوئے لوگوں پر جھپٹ پڑتے ہیں، اور ان کے ہاتھوں سے کھانے پینے کی چیزیں چھین کر فرار ہوجاتے ہیں۔ اولین کوشش میں ناکامی پر یہ بار بار اس فرد پر جھپٹتے ہیں۔ خود زدہ فرد بالخصوص خواتین ان کے ڈر سے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز پھینک دیتی ہیںِ جسے یہ پنجوں میں دبوچ کر اڑ جاتے ہیں۔ سمندری بگلے آئس کریم اور مشروبات کے خاص طور پر شائق ہیں۔ ساحلی کی کھلی فضا میں اگر کوئی مقامی فرد یا غیرملکی سیاح آئس کریم کھا رہا ہو تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کوئی بگلا اس کی طرف نہ لپکے۔سمندری بگلے بچوں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ وہ ان پر جھپٹتے ہیں، اور بعض اوقات چونچ اور پنجوں سے انھیں زخمی بھی کردیتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے سمندری بگلوں کی جارحیت اس وقت ایک بار پھر ذرائع ابلاغ کا موضوع بن گئی جب ایک گھر کے باغیچے میں ایک پالتو کچھوا ان کا نشانہ بنا۔ کچھوے کو بگلوں کے غول نے چونچ اور پنجے مار مار کر ہلاک کرڈالا تھا۔ مئی اور جون کے مہینوں میں دو کتے بھی ان کی ہلاکت خیزی کا شکار ہوگئے تھے۔کورنوال کانٹی کے قصبہ ٹرورو میں بگلوں کے حملہ آور ہونے کے واقعات تواتر سے پیش آرہے ہیں۔ طویل غوروخوض کے بعد انتظامیہ نے قصبے میں سمندری بگلوں کی جارحیت سے بچا کے لیے آزمائشی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت قصبے کے تمام کھمبوں پر ایک خصوصی رنگ کیا جائے گا جو آئینے کے مانند دھوپ کو منعکس کرتا ہے ۔رنگ سے منعکس ہوکر فضا میں منعکس ہونے والی شمسی شعاعیں پرندوں کی آنکھیں چندھیا دیں گی، جس سے وہ عارضی طور پر اندھے ہوجائیں گے اور زمین کا رخ نہیں کریں گے۔ اس خصوصی رنگ یا پینٹ کو Flock Off کہا جاتا ہے۔
Flock Off کے استعمال پر کچھ حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے مگر کورنوال کانٹی کی کونسل کا کہنا ہے کہ بگلوں کو شہریوں سے دور رکھنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، کیوں کہ 1981 سے ان پرندوں کے شکار پر پابندی عائد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…