ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

انٹرنیٹ پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر دس سال سزا کی تجویز

datetime 20  جولائی  2015 |

لندن (نیوزڈیسک )پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ قانون کبھی کبھار ڈان لوڈ کرنے والوں کے لیے نہیں ہے اگرچہ اسے روکنے کے لیے بھی طریق کار موجود ہے حکومتِ برطانیہ ایک نئے منصوبے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت آن لائن کے قزاقوں (پائریٹس)کو دس سال تک جیل کی سزا سنائی جا سکے گی۔اس وقت آن لائن پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی زیادہ سے زیادہ سزا دو سال قید ہے۔تاہم وزار نے اس سزا میں اضافے پر غور کے لیے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے تاکہ عام چیزوں کے حوالے سے کاپی رائٹ کی جو سزا ہے آن لائن کاپی رائٹ کی بھی وہی سزا ہو۔حکومت کا کہنا ہے کہ سخت سزائیں ایسے معاملات کو کافی زیادہ روکنے کا باعث بنتی ہیں۔بی بی سی کے ٹیکنالوجی کے امور کے نامہ نگار ڈیو لی کہتے ہیں کہ ملک کی تخلیقی صنعت، خاص طور پر فلم اور موسیقی کی نمائندگی کرنے والے گروپ کچھ عرصے سے آن لائن پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سزاں میں اضافے کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ محض دو برس کی سزا، آن لائن پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے کافی نہیں ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں موجودہ قانون پرانا ہے۔مجوزہ اقدامات چوری کیے گئے مواد کے تقسیم کاروں کو ہدف بنائیں گے، یعنی ان لوگوں کو جوکبھی تو ریلیز سے پہلے ہی فلموں کی نقلیں تیار کرتے ہیں اور انھیں اپ لوڈ کردیتے ہیں اور پھر ہزار ہا لوگ ایسی نقول کو ڈان لوڈ کر تے ہیں۔حکومت کاپی رائٹ کے جرم کو بہت سنگین سمجھتی ہے۔ اس سے کاروبار کو، صارفوں کو اور کافی حد تک معیثت کو خواہ وہ آن لائن ہو یا آف لائن، نقصان پہنچتا ہے۔بیرنس نیوائل رولف پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ قانون کبھی کبھار ڈان لوڈ کرنے والوں کے لیے نہیں ہے اگرچہ اسے روکنے کے لیے بھی طریق کار موجود ہے۔خیال رہے کہ اس سلسلے میں کی جانے والی مشاورت میں گرما گرمی ہوگی۔انٹرنیٹ پر حقوق کی آواز اٹھانے والے گروپ پولیس کی روزمرہ کارروائیوں پر ہالی وڈ اور موسیقی کی صنعت کے اثر و رسوخ پر سوال اٹھائیں گے۔ کیونکہ اس صنعت سے وابستہ افراد جنھیں سٹوڈیو اور ریکارڈ لیبل والوں سے مالی مدد ملتی ہے، اپنے عملے کو پولیس سٹیشنوں میں کام کرنے کے لیے پیسے دیتے ہیں اور ان کا صرف ایک ہی کام ہوتا ہے کہ وہ کاپی رائٹ کے جرم کی تفتیش کریں۔انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی وزیر بیرنس نیوائل رولف کہتی ہیں حکومت کاپی رائٹ کے جرم کو بہت سنگین سمجھتی ہے۔ اس سے کاروبار کو، صارفیں کو اور کافی حد تک معیشت کو خواہ وہ آن لائن ہو یا آف لائن، نقصان پہنچتا ہے۔ برطانیہ کی معیشت میں ہماری تخلیقی صنعتوں کا حصہ سات ارب پانڈ کا ہے اور یہ اہم ہے کہ انھیں آن لائن جرائم سے محفوظ رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ آن لائن پر تجارتی سطح پر سزاں کو سخت کرنے سے ہم کاروبار کرنے والوں کو زیادہ تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور مجرموں کو واضح پیغام بھیج رہے ہیں۔ڈیٹیکٹیو چیف انسپکٹر پیٹر ریٹکلف کا کہنا تھا ٹیکنالوجی کی ترقی اور انٹرنیٹ کی مقبولیت کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ مجرم آن لائن جرائم کی طرف آ رہے ہیں۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ قانونی نظام میں ڈیجٹل دنیا کے تحفظ کے لیے ہمارے اقدامات نظر آئیں۔مشاورت کے آغاز سے قبل تخلیقی صنعتوں کی جانب سے مطالبہ سامنے آیا تھا کہ کاپی رائٹ کے جرائم پر زیادہ کارروائی کی جانی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…