لندن (نیوزڈیسک )پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ قانون کبھی کبھار ڈان لوڈ کرنے والوں کے لیے نہیں ہے اگرچہ اسے روکنے کے لیے بھی طریق کار موجود ہے حکومتِ برطانیہ ایک نئے منصوبے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت آن لائن کے قزاقوں (پائریٹس)کو دس سال تک جیل کی سزا سنائی جا سکے گی۔اس وقت آن لائن پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی زیادہ سے زیادہ سزا دو سال قید ہے۔تاہم وزار نے اس سزا میں اضافے پر غور کے لیے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے تاکہ عام چیزوں کے حوالے سے کاپی رائٹ کی جو سزا ہے آن لائن کاپی رائٹ کی بھی وہی سزا ہو۔حکومت کا کہنا ہے کہ سخت سزائیں ایسے معاملات کو کافی زیادہ روکنے کا باعث بنتی ہیں۔بی بی سی کے ٹیکنالوجی کے امور کے نامہ نگار ڈیو لی کہتے ہیں کہ ملک کی تخلیقی صنعت، خاص طور پر فلم اور موسیقی کی نمائندگی کرنے والے گروپ کچھ عرصے سے آن لائن پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سزاں میں اضافے کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ محض دو برس کی سزا، آن لائن پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے کافی نہیں ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں موجودہ قانون پرانا ہے۔مجوزہ اقدامات چوری کیے گئے مواد کے تقسیم کاروں کو ہدف بنائیں گے، یعنی ان لوگوں کو جوکبھی تو ریلیز سے پہلے ہی فلموں کی نقلیں تیار کرتے ہیں اور انھیں اپ لوڈ کردیتے ہیں اور پھر ہزار ہا لوگ ایسی نقول کو ڈان لوڈ کر تے ہیں۔حکومت کاپی رائٹ کے جرم کو بہت سنگین سمجھتی ہے۔ اس سے کاروبار کو، صارفوں کو اور کافی حد تک معیثت کو خواہ وہ آن لائن ہو یا آف لائن، نقصان پہنچتا ہے۔بیرنس نیوائل رولف پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ قانون کبھی کبھار ڈان لوڈ کرنے والوں کے لیے نہیں ہے اگرچہ اسے روکنے کے لیے بھی طریق کار موجود ہے۔خیال رہے کہ اس سلسلے میں کی جانے والی مشاورت میں گرما گرمی ہوگی۔انٹرنیٹ پر حقوق کی آواز اٹھانے والے گروپ پولیس کی روزمرہ کارروائیوں پر ہالی وڈ اور موسیقی کی صنعت کے اثر و رسوخ پر سوال اٹھائیں گے۔ کیونکہ اس صنعت سے وابستہ افراد جنھیں سٹوڈیو اور ریکارڈ لیبل والوں سے مالی مدد ملتی ہے، اپنے عملے کو پولیس سٹیشنوں میں کام کرنے کے لیے پیسے دیتے ہیں اور ان کا صرف ایک ہی کام ہوتا ہے کہ وہ کاپی رائٹ کے جرم کی تفتیش کریں۔انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی وزیر بیرنس نیوائل رولف کہتی ہیں حکومت کاپی رائٹ کے جرم کو بہت سنگین سمجھتی ہے۔ اس سے کاروبار کو، صارفیں کو اور کافی حد تک معیشت کو خواہ وہ آن لائن ہو یا آف لائن، نقصان پہنچتا ہے۔ برطانیہ کی معیشت میں ہماری تخلیقی صنعتوں کا حصہ سات ارب پانڈ کا ہے اور یہ اہم ہے کہ انھیں آن لائن جرائم سے محفوظ رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ آن لائن پر تجارتی سطح پر سزاں کو سخت کرنے سے ہم کاروبار کرنے والوں کو زیادہ تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور مجرموں کو واضح پیغام بھیج رہے ہیں۔ڈیٹیکٹیو چیف انسپکٹر پیٹر ریٹکلف کا کہنا تھا ٹیکنالوجی کی ترقی اور انٹرنیٹ کی مقبولیت کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ مجرم آن لائن جرائم کی طرف آ رہے ہیں۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ قانونی نظام میں ڈیجٹل دنیا کے تحفظ کے لیے ہمارے اقدامات نظر آئیں۔مشاورت کے آغاز سے قبل تخلیقی صنعتوں کی جانب سے مطالبہ سامنے آیا تھا کہ کاپی رائٹ کے جرائم پر زیادہ کارروائی کی جانی چاہیے۔
انٹرنیٹ پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر دس سال سزا کی تجویز
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
جشنِ میلاد النبی ﷺ کے موقع پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
ربیع الاول کے چاند سے متعلق اعلان ہوگیا
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
رخصتی گھر سے کریں گے، والد نے پسند کی شادی کرنے والی بیٹی کو گھر لے جا کر مار دیا
-
کونسی غذاؤں کے زیادہ استعمال سے مثانے کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف
-
سرکاری ملازمین کا جی پی فنڈ کتنا ہوگا؟ نوٹیفکیشن جاری
-
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت گر گئی



















































