ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کی جبری شادیاں کورونا وائرس سے بڑا خطرہ قرار

datetime 2  ستمبر‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال (یونیسیف)نے کہاہے کہ بچوں کی شادی کی روایت کا خاتمہ معاشروں سے غربت کو رفتہ رفتہ دور کر سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ اور با اختیار لڑکیاں صحت مند نئی نسل کو پروان چڑھا سکتی ہیں۔ تاہم کورونا کی وبا غربت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اس کے شکار والدین ‘چائلڈ میرج پر مجبور ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ دنیا بھر میں ہر سال 18 سال سے کم عمر کی 12 ملین لڑکیوں کو ازدواجی بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔ عالمی ادارے نے متنبہ کیا کہ جب تک کورونا وائرس کے معاشی اور معاشرتی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی کارروائیاں نہیں کی جاتیں تب تک اگلی دہائی میں مزید 13 ملین بچوں کی شادیوں کو نہیں روکا جا سکتا۔کورونا کے پھیلا ئوکے بعد سے اب تک بچوں کی جبری شادیوں سے کئی ہزار خاندان متاثر ہو چکے ہیں۔ گرچہ اس بارے میں حتمی ڈیٹا ابھی اکٹھا نہیں کیا جا سکا ہے۔بہبود اطفال کی تنظیم سیو دا چلڈرن نے خبردار کیا کہ لڑکیوں کے خلاف تشدد اور جبری شادیوں کے خطرات، خاص طور سے نابالغوں میں، وائرس سے کہیں بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ادھر یونیسیف نے انڈونیشیا میں نابالغوں کی شادی سے متعلق ایک اہم مسئلے پر زور دیا ، اس عالمی ادارے کے مطابق چائلڈ میرج کی شرح کے اعتبار سے انڈونیشیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بچوں کی جبری شادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ انڈونیشیا میں گزشتہ برس لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 16 سال سے بڑھا کر 19 سال کر دی گئی تھی۔ لیکن اس معاشرے کے قوانین میں بہت سے جھول ہیں۔ مثلا مقامی مذہبی عدالتیں کم عمری کی شادی کی اجازت دے سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…