ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

خانہ کعبہ اور حجر اسود کوچھونا منع ،طواف کے دوران ڈیڑھ میٹرکا فاصلہ ، رمی کیلئے حجاج کو پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائینگی، حج سے متعلق نئے قواعدوضوابط جاری

datetime 6  جولائی  2020 |

ریاض( آن لائن) سعودی عرب نے رواں سال حج سے متعلق نئے قواعدوضوابط جاری کردیئے ہیں جو مسجدالحرام، منیٰ، میدان عرفات، مزدلفہ اورقیام وطعام سے متعلق ہیں۔ سرکاری خبرایجنسی العربیہ کے مطابق سعودی مذہبی امور کی جانب سے جاری مراسلے میں حج سے متعلق نئے قواعد وضوابط جاری کئے گئے ہیں جن کے مطابق عازمین حج اورحج عملے کو ماسک اور دستانے پہننا ہوں گے۔

حجاج کرام کے سرکے بال تراشنے والے ایک دوسرے کے آلات استعمال نہیں کرسکیں گے۔عازمین حج نمازکے دوران ایک دوسرے سے2میٹرفاصلے کی پابندی کریں گے۔ رمی کیلئے حجاج کو پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔طواف کیلئے مطاف جانیوالوں کی قافلہ بندی ہوگی۔ طواف کے دوران کم از کم ڈیڑھ میٹرکا فاصلہ رکھنا ہوگا۔ خانہ کعبہ کو چھونا یا حجراسود کو بوسہ دینامنع ہوگا۔چھونے اور چومنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں رکھی جائیں گی۔ اس پر عمل درآمد کے لیے نگراں تعینات ہوں گے۔مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پرپابندی ہوگی۔ صحن میں کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پانی پینے یازمزم پانی کے لیے قابل تلف(ڈسپوزیبل) بوتلیں اور ڈبے استعمال کیے جائیں گے۔کھانے پینے کے برتن دوبارہ استعمال کرنیکی اجازت نہیں ہوگی اور بسوں میں عازمین کی تعداد متعین ہوگی۔پورے سفر کے دوران ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی۔ کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیںہوگی۔ 18 جولائی 2020، 28 ذیقعد سے 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت کے بغیر جانا منع ہوگا۔لفٹ استعمال کرتے وقت سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔ ذاتی صفائی کا ہر حاجی کے لیے دھیان رکھنا ضروری ہوگا۔

سینیٹائزر نمایاں مقامات پر رکھنا ہوں گے۔رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں میں بیٹھنے اور انتظار کرنے کی جگہوں کو مسلسل سینیٹائز کیا جائے گا۔ دروازوں کے ہینڈل، کھانے کی میز، کرسیوں اور صوفوں کے ہتھے سینیٹائز کیے جائیں گے۔کھانا تیار کرنے، پیش کرنے سے قبل، حمام سے نکلنے کے بعد، کسی کو ہاتھ ملانے یا چھونے کے بعد صابن اور پانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا ہوں گے۔ عبادت کے دوران حاجیوں کو ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایسے کسی بھی شخص کو حج کی اجازت نہیں دی جائے گی جس میں انفلوائنزا جیسی علامات ہوں گی۔ ایسے کسی بھی شخص کو علامتیں ختم ہونے تک حج مقامات پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجازت نامے کے لیے اسے ڈاکٹر سے فٹنس سرٹیفیکیٹ لینا ہوگا۔رپورٹ کے مطابق منیٰ میں جمرات کی رمی کے لیے سینیٹائز کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔ منیٰ میں 10، 11، 12 اور 13 ذی الحج کو حجاج رمی جمرات کرتے ہیں۔جمرات کی رمی کے حوالے سے طے کیا گیا ہے کہ 50 افراد پر مشتمل ایک گروپ کو ہر منزل پر رمی کے لیے جانے کی اجازت دی جائے گی۔رمی کرتے وقت ڈیڑھ سے دو میٹر تک کا فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی خیمے میں 10 سے زیادہ حاجیوں کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر خیمہ 50 مربع میٹر کا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…