ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی حکومت میں غیر رسمی نائب وزیر اعظم بنانے کے باوجود جہانگیر ترین کی عمران خان کیساتھ بیوفائی،25اپریل کے بعد کیا ہونے جارہاہے؟تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

datetime 7  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے انتہائی قریبی ساتھی جہانگیر ترین نے ان کے ساتھ بے وفائی کی ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے باوجود کارکردگی دکھانے کیلئے انہیں پی ٹی آئی حکومت میں نائب وزیراعظم کا غیر رسمی کردار دیدیا گیا تھا۔

سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق جہانگیر ترین کو غیر رسمی طور پر بہت زیادہ اختیارات دیے گئے تھے کہ وہ زرعی شعبے میں اصلاحات لائیں، کابینہ میں اور وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی سطح پر بیوروکریسی میں اپنی پسند کے لوگ بھرتی کریں۔ لیکن نتیجہ نہ صرف ناکامیوں کی صورت میں سامنے آیا بلکہ گندم اور چینی کے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آئے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین نے مکمل طور پر عمران خان کو مایوس کیا ہے، اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے غلط گھوڑے پر دائو کھیلا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اور بیوروکریسی میں حالیہ رد و بدل پی ٹی آئی اور حکومت میں موجود ہر شخص کیلئے مکمل طور پر ایک پیغام ہے کہ جہانگیر ترین اور ان کا اثر رسوخ آئوٹ ہو چکا ہے۔ ان تبدیلیوں سے، پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین کا گروپ اپنے انجام کو پہنچا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کو جہانگیر ترین کا آدمی ہونے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔ رزاق دائود کو ’’گینگ کا حصہ‘‘ نہیں سمجھا جاتا لیکن وزیراعظم کی رائے ہے کہ انہوں نے چینی مافیا کے فائدے کیلئے یہ سب کچھ ہونے دیا۔ خسرو بختیار اور ان کے چھوٹے بھائی، جو پنجاب میں وزیر خزانہ ہیں، کا چینی اسکینڈل میں کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔ جس وقت خسرو بختیار چینی کے معاملے پر ہونے والے ای سی سی اور کابینہ کے اجلاس سے چلے جاتے تھے۔

اسی وقت ان کے بھائی پنجاب کے وزیر خزانہ نے چینی مل مالکان کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کی تحریری مخالفت کی تھی۔ اس مخالفت کے باوجود، پنجاب کے وزیراعلیٰ نے چینی پیدا کرنے والوں کیلئے سبسڈی کی منظوری دی۔ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ بھی پیر کے دن ہوا وہ حالات کا نقطہ عروج تھا۔ لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ 25؍ اپریل کے بعد بہت کچھ ہونا باقی ہے کیونکہ شوگر کمیشن اُس دن شوگر مافیا کے کام کرنے کے انداز کے متعلق اپنی رپورٹ جمع کرائے گا۔ فوجداری کارروائیاں ہوں گی۔

ممکنہ طور پر گرفتاریاں بھی اور ساتھ میں ایف بی آر، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان وغیرہ جیسے اداروں کی کارروائیاں بھی۔ زراعت کا ماہر ہونے کی وجہ سے وزیراعظم نے انہیں زراعت کے شعبے میں اصلاحات اور معاملات کو اپنی مرضی سے چلانے کی اجازت دی۔ انہیں نہ صرف وفاق بلکہ پنجاب میں بھی کھلی چھوٹ دیدی گئی تھی۔ دونوں جگہوں پر جہانگیر ترین زرعی شعبے کے کرتا دھرتا تھے؛ اس میں خوراک، لائیو اسٹاک اور آبپاشی کے شعبہ جات شامل تھے۔

یہ وزیراعظم عمران خان کا بھروسہ ہی تھا جس کی وجہ سے جہانگیر ترین کو انہوں نے ایک مرتبہ کابینہ کے اجلاس میں مدعو کرکے زراعت کے شعبے کے حوالے سے بریفنگ دینے کیلئے کہا۔ یہ عمران خان کا جہانگیر ترین پر بھروسہ ہی تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ترین کو پی ٹی آئی حکومت کے 309؍ ارب روپے مالیت کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کا منصوبہ بنانے اور اسے شروع کرنے کا کام دیا تاکہ مقامی سطح پر پیداوار بڑھائی جا سکے، درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے اور غریب کسانوں کی زندگیاں بہتر کرنے کے ساتھ پائیدار ترقی کی بنیاد ڈال کر آگے بڑھا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…