ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

غیر منظور شدہ منصوبوں کے لیے فنڈزدیں گے یا نہیں ، وزارت خزانہ نے فیصلہ سنا دیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے غیر فعال سڑکوں کے منصوبوں اور حکومت کی جانب سے 400 ارب روپے کے کیش ڈیولپمنٹ لونز (سی ڈی ایل) کے حوالے سے شکایات کی بھرمار ہونے پر وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال غیر منظور شدہ منصوبوں کو فنڈز فراہم نہیں کریں گے۔رپورٹ کے مطابق 3 اہم وزرا ء نے پارلیمانی پینل کے سامنے جواب دیتے ہوئے مستقبل میں مالی پالیسی کے

حوالے سے اہم فیصلوں کے بارے میں بتایا، گرم بحث دوران متعدد وزیروں نے اپنے موقف پر وضاحت دی اور کچھ موقع پر دیگر کو چیلنج کیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کی صدارت سینیٹر آغا شاہزیب درانی کر رہے تھے۔اجلاس کے دوران کمیونکیشنز سیکریٹری جواد رفیق ملک کا کہنا تھا کہ وزارت نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں سمری پیش کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ این ایچ اے سیاسی فیصلوں کے تحت متعارف کرائے گئے روڈ اور موٹروے منصوبوں میں زیادتی کی وجہ سے کیش ڈیولپمنٹ پروگرام میں مزید دلچسپی نہیں رکھتی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب تک سی ڈی ایل کا میکانزم تبدیل نہیں کیا جاتا اس کا حجم این ایچ اے کی مالیاتی صلاحیت سے بڑھتا رہے گا جس کی وجہ سے این ایچ اے کو سی ڈی ایل فراہم کرنے کا عمل رک جائے گا۔جواد رفیق ملک کا کہنا تھا کہ این ایچ اے کو منصوبوں کے بدلے پورے فنڈز بھی نہیں فراہم کیے گئے جو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حصہ تھے اور وہ کیس حالیہ 2 کورٹرز میں بھی برقرار رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…