اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کے 70 فی صد مزدور خط غربت سے نیچے زندگی بسرکرنے پرمجبور

datetime 1  فروری‬‮  2019 |

تہران(این این آئی)آئندہ ہفتے ایرانی حکومت مزدور کی کم سے کم اجرت کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین اور مزدور طبقے کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ نہ کیا گیا۔ تو ان کی مالی اور معاشی مشکلات کا حل ممکن نہیں ہوگا۔ حکومت کو ہرصورت میں محنت کشوں کی قوت خرید کے پیمانے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ایرانی تجزیہ نگار اور اقتصادی امور کے ماہر فریبرز دانا نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سال 2018ء کے دوران کم

سے کم اجرت نا مناسب اور مزدوروں کی ضروریات کے لیے کافی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس تین اعشاریہ پانچ فی صد افراد خط غربت سے نیچے بتائے گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی ماہانہ آمدن 280 ڈالر سے زیادہ نہیں۔ حکومت کی طرف سے ان کی اجرت میں ایک اعشاریہ چھ فی صد کا اضافہ کیا گیا جب کہ ماہانہ آمدن میں 120 ڈالر کا اضافہ ناگزیر تھا۔ایک سوال کے جواب میں ایرانی تجزیہ نگار نے کہا کہ 2018ء کے دوران مہنگائی میں اضافے کے نتیجے میں افراط زر میں 30 سے 40 فی صد اضافہ ہوا۔ ہمارے اندازے کے مطابق حکومت کو چاہیے تھاکہ وہ مزدور کی کم سے کم اجرت 234 ڈالر ماہانہ مقرر کرے تاکہ وہ افراط زر کا آسانی کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ ایران میں مزدور طبقے میں غربت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی قوت خرید کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت قریبا 70 فی صد مزدور جن کی تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ ہے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکررہیہیں۔ ان کی ماہانہ آمدن 334 ڈالر ماہانہ کے بجائے 280 ڈالر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…