جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

جاپان : ناکارہ بیس بال بیٹ سے چاپ اسٹکس بن گئے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

جاپان (مانیٹرنگ ڈیسک)’چاپ اسٹکس’ہوتی کیا ہیں، چائینز کھانے کے شوقین افراد جانتے ہی ہوں گے اور جو لوگ ‘بیس بال’ دیکھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ بیس بال کا بیٹ دکھتا کیسا ہے۔ چاپ اسٹکس، مشرقی ایشیائی ممالک میں کھانے کے لیے چمچ کی جگہ استعمال ہوتی ہیں۔

لیکن ایک لمحے کے لیے بھاری بھر کم بیس بال بیٹ کو نازک چاپ اسٹکس میں تبدیل ہونے کا تصور کیجیے۔ جاپان میں جب بیس بال بیٹ گیند کو ہٹ لگانے کے قابل نہیں رہتے تو پھر ان سے چاپ اسٹکس بنا لی جاتی ہیں۔ بیس بال بیٹ کے ساتھ ایسا اس کھیل کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن اس سے بھی بڑی وجہ جاپانی درخت ‘آوڈامو’ کو بچانے اور اسے دوبارہ لگانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ آوڈامو کی لکڑی، مضبوط، ہلکی اور لچکدار ہونے کے ساتھ بکھرنے سے محفوظ رہتی ہے اور انھی خصوصیات کی وجہ سے اس درخت کی لکڑی کو پروفیشنل بیٹ بنانے کے لیے مناسب سمجھا جاتا تھا تاہم بعد میں اس لکڑی کے نایاب ہونے کی وجہ سے بیٹ بنانا ترک کر دیا گیا تھا۔ ان درختوں کے نایاب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ‘آوڈامو’ درخت جتنی تعداد میں کاٹے گئے اتنی تعداد میں واپس نہیں لگائے گئے۔ اب زیادہ تر بیس بال بیٹ شہتوت اور وائٹ ایش کے درختوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ‘ہیوزئی من’ بیس بال بیٹ سے چاپ اسٹک بنانے کے خیال کی بانی کمپنی ہے۔ کمپنی کے مطابق چاپ اسٹکس سے حاصل ہونے والی آمدن آواڈامو درختوں کی افزائش کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ کھیل کے ہر سیزن کے بعد تقریباً 10 ہزار ناکارہ بیس بال بیٹ کمپنی میں جمع ہوتے ہیں۔ چاپ اسٹکس پر ان ٹیموں کے لوگو بنے ہوئے ہوتے ہیں جن کے زیر استعمال یہ بیٹ ہوتے تھے۔ بیٹ کا تمام حصہ نئی چیزیں بنانے کے کام آتا ہے، اس کے موٹے حصے سے چاپ اسٹکس بنائی جاتی ہیں جب کہ چپٹے حصے سے شو ہارن، چمچے کانٹوں کے ہینڈل بنانے کے کام آجاتا ہے اور بیٹ کے کیپ سے پانی پینے والے کپ بنا لیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر کرکٹ کھیلی جاتی ہے، اب آپ تصور کریں کہ اگر ہمارے ہاں بھی ناکارہ کرکٹ بیٹس کو قابل استعمال لایا جائے تو کتنی بڑی تعداد میں درخت کٹنے سے بچ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…