پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

جاپان : ناکارہ بیس بال بیٹ سے چاپ اسٹکس بن گئے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

جاپان (مانیٹرنگ ڈیسک)’چاپ اسٹکس’ہوتی کیا ہیں، چائینز کھانے کے شوقین افراد جانتے ہی ہوں گے اور جو لوگ ‘بیس بال’ دیکھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ بیس بال کا بیٹ دکھتا کیسا ہے۔ چاپ اسٹکس، مشرقی ایشیائی ممالک میں کھانے کے لیے چمچ کی جگہ استعمال ہوتی ہیں۔

لیکن ایک لمحے کے لیے بھاری بھر کم بیس بال بیٹ کو نازک چاپ اسٹکس میں تبدیل ہونے کا تصور کیجیے۔ جاپان میں جب بیس بال بیٹ گیند کو ہٹ لگانے کے قابل نہیں رہتے تو پھر ان سے چاپ اسٹکس بنا لی جاتی ہیں۔ بیس بال بیٹ کے ساتھ ایسا اس کھیل کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن اس سے بھی بڑی وجہ جاپانی درخت ‘آوڈامو’ کو بچانے اور اسے دوبارہ لگانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ آوڈامو کی لکڑی، مضبوط، ہلکی اور لچکدار ہونے کے ساتھ بکھرنے سے محفوظ رہتی ہے اور انھی خصوصیات کی وجہ سے اس درخت کی لکڑی کو پروفیشنل بیٹ بنانے کے لیے مناسب سمجھا جاتا تھا تاہم بعد میں اس لکڑی کے نایاب ہونے کی وجہ سے بیٹ بنانا ترک کر دیا گیا تھا۔ ان درختوں کے نایاب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ‘آوڈامو’ درخت جتنی تعداد میں کاٹے گئے اتنی تعداد میں واپس نہیں لگائے گئے۔ اب زیادہ تر بیس بال بیٹ شہتوت اور وائٹ ایش کے درختوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ‘ہیوزئی من’ بیس بال بیٹ سے چاپ اسٹک بنانے کے خیال کی بانی کمپنی ہے۔ کمپنی کے مطابق چاپ اسٹکس سے حاصل ہونے والی آمدن آواڈامو درختوں کی افزائش کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ کھیل کے ہر سیزن کے بعد تقریباً 10 ہزار ناکارہ بیس بال بیٹ کمپنی میں جمع ہوتے ہیں۔ چاپ اسٹکس پر ان ٹیموں کے لوگو بنے ہوئے ہوتے ہیں جن کے زیر استعمال یہ بیٹ ہوتے تھے۔ بیٹ کا تمام حصہ نئی چیزیں بنانے کے کام آتا ہے، اس کے موٹے حصے سے چاپ اسٹکس بنائی جاتی ہیں جب کہ چپٹے حصے سے شو ہارن، چمچے کانٹوں کے ہینڈل بنانے کے کام آجاتا ہے اور بیٹ کے کیپ سے پانی پینے والے کپ بنا لیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر کرکٹ کھیلی جاتی ہے، اب آپ تصور کریں کہ اگر ہمارے ہاں بھی ناکارہ کرکٹ بیٹس کو قابل استعمال لایا جائے تو کتنی بڑی تعداد میں درخت کٹنے سے بچ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…