اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کینسر سے متعلق ماہرین کا دلچسپ دعویٰ

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک وینزویلا کے آنجہانی صدر ہوگوشاویز نے جب الزام عائد کیا تھا کہ ان کے دشمنوں نے ان کے جسم میں کینسر کے جراثیم داخل کئے ہیں تو سائنس سمجھنے والوں کی اکثریت نے اسے مسترد کیا تھا۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ کینسر چھوت کی بیماری ہرگز نہیں کہ جس کا کسی بھی شخص کو زبردستی شکار بنایا جاسکے تاہم کچھ ماہرین کاد عویٰ ہے کہ یہ ناممکن بھی نہیں ہے تاہم اس پر عمل درآمد اتنا آسان بھی نہیں، جس قدر آسانی سے ہوگوشاویز نے یہ الزام عائد کیا تھا۔ انسانی جسم کا قدرتی مدافعتی نظام ہر قسم کے بیرونی یا دشمن خلیوں کا کھل کے مقابلہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیرونی جانب سے کینسر سیلز جسم میں داخل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ تاحال بائیولوجی کے ماہرین تین طرح کے چھوت کے کینسر سیلز دریافت کرچکے ہیں۔ اس تحقیق کو سامنے لانے والی کیترین بیلوف ہیں جنہوں نے تسمانین ڈیول فیشیئل ٹیومر ڈزیز نامی چھوت کے کینسر کو پڑھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حساب کا کلیہ نہیں لیکن عام حالات میں اس سوال کا جواب کہ کینسر چھوت کا مرض ہے یا نہیں، ہمیشہ نفی میں ہوتا ہے۔ تاحال ماہرین نے وہ وجوہات تلاش کی ہیں جو کہ ایک فرد سے دوسرے میں منتقل ہونے کے قابل اور کینسر کا باعث بن سکتی ہیں جیسا کہ ایچ پی وی سرویکل کینسر، مردوں میں اینل کینسر اور جینیٹل وارٹس کا باعث ہوسکتا ہے جبکہ سگریٹ کا دھواں اس ماحول میں رہنے والے افراد کے لئے پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ تاحال ماہرین نے کتوں میں ایک ایسے کینسر کی قسم دریافت کی ہے جو کہ چھوت کا مرض کہا جاسکتا ہے یہ بذریعہ سیکس منتقل ہوتا ہے اور اسے سی ٹی وی ٹی کہتے ہیں۔ اسی طرح فیشئل کینسر بھی کتوں میں پایا جاتا ہے اور یہ ان کے منہ اور جبڑے کے گرد زخم کی صورت میں ہوتا ہے۔ جب یہ آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں تو پھر کینسر کے جراثیم دوسرے فرد کو بھی منتقل ہوجاتے ہیں تاہم یہ صرف انہی کتوں میں پھیلتا ہے جو کہ نسلی اعتبار سے بالکل ایک ہوں۔ انسانوں میں کینسر کے چھوت کے مرض کی طرح نہ پھیلنے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہر فرد جینیاتی بنیادوں پر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ البتہ انسانوں میں کینسر کے ایک سے دوسرے کو منتقل ہونے کی چند نایاب مثالیں ماں سے بچے کو یا پھر کینسر زدہ اعضا کی منتقتلی سے کینسر ایک سے دوسرے شخص کو لگنا ممکن ہے۔ مگراس کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے۔ عام طور پر جسم میں موجود قوت مدافعت کیلئے کام کرنے والے سیلز جسم کو اسے قبول ہی نہیں کرنے دیتے ہیں اور اس کیخلاف کارروائی شروع کردیتے ہیں اور یوں جسم کینسر کے امکانات سے بچا رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…