بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اسٹیل ملازمین نے ادارے کی نجکاری کا فیصلہ رد کردیا

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی) پاکستان اسٹیل کے ملازمین نے ادارے کی نج کاری کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے متبادل منصوبہ پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی آف پاکستان اسٹیل کی کونسل کا اجلاس ایکشن کمیٹی کے کنوینرسید نعیم الحق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے نجکاری کی جانب سے پاکستان اسٹیل کو لیز آٹ کرنے کے پلان کی منظوری دیے جانے کے فیصلے پر غور و خوص کیا گیا۔

اجلاس میں اتفاق رائے سے پاکستان اسٹیل کی لیز آٹ سمیت ہر قسم کی نجکاری کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کا عزم کیا گیا کہ پاکستان اسٹیل کی پبلک سیکٹر میں بحالی اور ملازمین کے حقوق کا ہر صورت میں دفاع کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اسٹیل کی بحالی کیلئے متبادل پلان پیش کیا جائیگا۔ اس مقصد کیلئے دوست تنظیموں ، پبلک سیکٹر کے دیگر اداروں، معیشت دانوں، دانشوروں اور ماہرین سے مدد لی جائے گی۔اجلاس میں نیشنل لیبر کانسل کے اجلاس منعقدہ 24 فروری 2018، کراچی کے شرکا کی جانب سے پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف مذمتی قرارداد کی منظوری کو مستحسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو جدوجہد کے آغاز میں ہی اس قرارداد سے حوصلہ ملاہے۔ اجلاس نے مشترکہ جدوجہد کیلئے کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا۔ایکشن کمیٹی نے آئندہ ہفتہ سے عملی جدوجہد کا فیصلہ کرتے ہوئے ملازمین کی بھر پور شرکت کیلئے رابطہ کاری کا پلان منظور کیا۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ اپنی جدوجہد میں سیاسی پارٹیوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی کی آرگنائزیشنز کو شامل کیا جائے گا، مزید براں رابطہ کاری کیلئے کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ایکشن کمیٹی نے اجلاس میں یہ واضح کیا کہ پاکستان اسٹیل کسی وقت بھی ملکی خزانے یا عوام پر بوجھ نہیں تھا بلکہ اسے جان بوجھ کر نا صرف بوجھ بنایا گیا بلکہ حکومتی ناقص پالیسیوں، انتظامی نا اہلیت اور کرپشن کے ذریعے سازش کرکے ملک کے واحد فولاد ساز ادارے کو برباد کیا گیا۔

پاکستان اسٹیل کی ضرورت آج بھی مسلمہ ہے۔ ویسے بھی جب حکومت اس لیز آٹ کرنا چاہتی ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ اس ادارے کو چلایا جا سکتا ہے۔ جب نجی شعبہ اس چلا سکتا ہے تو حکومت پاکستان اسے خود کیوں نہیں چلاسکتی۔ایکشن کمیٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان اسٹیل کی بندش اور اب اسکی فروخت پاکستان اور ملکی معیشت کے خلاف سازش ہے۔ سی پیک کی تعمیر اور اس کے بعد ملک میں فولاد کی ضروریات میں کئی گنا اضافہ ہو گا جس کا مطلب ہے کہ حکمراں اس اضافی پیداوری ضرورت کے فوائد کو نجی شعبے کو دینا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…