یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے پھانسی دینے کا حکم دے دیا‘ شاہی ہرکارے بادشاہ کا حکم لے کر وزیر کے گھر پہنچے تو وہاں جشن چل رہا تھا‘
وزیر محل کے لان میں اپنے خاندان کے درمیان گھرا ہوا تھا‘ موسیقی چل رہی تھی اور وزیر خاندان اور خادموں کے ساتھ رقص کر رہا تھا‘ شاہی ہرکارے یہ دیکھ کر حیران رہ گئے‘ انہوں نے موسیقی بند کرائی‘ فنکشن رکوایا اور وہاں موجود تمام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے بادشاہ کا حکم پڑھنا شروع کر دیا‘ حکم میں لکھا تھا وزیر کو شام سات بجے مغرب کے وقت پھانسی لگا دیا جائے‘ یہ حکم سن کر وہاں صف ماتم بچھ گئی اور وزیر کے پورے خاندان نے رونا پیٹنا شروع کر دیا‘ وہاں موجود ہر شخص پریشان تھا سوائے وزیر کے۔ وزیر نے خاموشی اور صبر کے ساتھ پیغام سنا‘ مسکرایا اور شاہی ہرکاروں سے کہا ’’میری پھانسی میں دن کا پورا پہر باقی ہے‘ آپ میرے گھر کے سامنے گارد لگا دو تا کہ میں موت کے خوف کی وجہ سے کہیں بھاگ نہ سکوں‘ تم اس کے بعد شام کے وقت آجانا‘ میں تمہیں تیار ملوں گا‘ تم مجھے ساتھ لے جانا اور پھانسی پر چڑھا دینا‘‘ ہر کارے حیرت سے اسے دیکھنے لگے‘
وزیر اس کے بعد اپنے خاندان کی طرف مڑا اور ہنس کر بولا ’’میری موت کا وقت شام سات بجے ہے‘ میرے پاس ابھی زندگی کے پانچ گھنٹے باقی ہیں‘ میں موت کے خوف سے زندگی کے یہ پانچ گھنٹے کیوں ضائع کروں چناں چہ موسیقی بجائو اور میرے ساتھ رقص شروع کرو‘ ہم اس کے بعد مل کر پئیں گے‘ ایک دوسرے سے گلے ملیں گے اور میں مرنے کے لیے روانہ ہو جائوں گا لیکن اگلے پانچ گھنٹوں میں یہاں جشن کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا‘‘ وزیر نے اس کے ساتھ ہی سازندوں کو موسیقی بجانے کا اشارہ کیا اور اپنی بیوی کے ساتھ ناچنا شروع کر دیا‘ ان کی دیکھا دیکھی اس کا پورا خاندان بھی اٹھ کر ناچنے لگا اور تھوڑی دیر میں وہاں قہقہوں اور خوشیوں کے سوا کچھ نہیں تھا‘ شاہی ہرکارے یہ دیکھ کر سکتے میں چلے گئے‘ انہوں نے زندگی میں پہلی بار کسی شخص کو موت کی خبر کے بعد جشن مناتے دیکھا تھا‘ وہ چپ چاپ شاہی محل واپس آئے اور ساری روداد بادشاہ کے گوش گزار کر دی‘ بادشاہ بھی حیران ہو گیا‘ وہ اٹھا اور سپاہیوں کے ساتھ وزیر کے محل میں چلا گیا‘ وزیر واقعی خاندان کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا‘ بادشاہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا‘ وزیر نے اچانک بادشاہ کو سامنے دیکھا تو وہ دوڑ کر اس کے سامنے پیش ہوا‘ نارمل طریقے سے آداب کہا اور سامنے کھڑا ہو گیا‘ بادشاہ نے پوچھا ’’کیا آپ میرے ساتھ ناراض ہیں‘‘ وزیر نے جواب دیا ’’بادشاہ سلامت میں آپ سے ناراض کیوں ہو سکتا ہوں‘ آپ نے مجھے وزیر بنایا تھا‘ اپنے قرب سے نوازہ تھا اور آخر میں آپ کی وجہ سے مجھے زندگی کے قیمتی پانچ گھنٹے مل گئے‘ مجھے اس عنایت کی وجہ سے اپنے خاندان کے ساتھ خوشیاں منانے کا وقت مل گیا‘ آپ اگر میرے فوری قتل کا حکم جاری کر دیتے تو میں کیا کر سکتا تھا چناں چہ میں ناراضی کی گستاخی کیسے کر سکتا ہوں؟ یہ زندگی آپ کی امانت تھی‘ آپ نے اسے لینے کا فیصلہ کر لیا‘ میں آپ کا اطاعت گزار ہوں‘ مجھے آپ کے دوسرے فیصلوں کی طرح یہ فیصلہ بھی منظور ہے‘‘ بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے اسے گلے لگایا اور کہا ’’مجھے تمہارے بارے میں غلط رپورٹ دی گئی تھی‘ جو شخص اس قدر مثبت ذہنیت کا مالک ہو کہ وہ اپنی زندگی کے آخری پانچ گھنٹے بھی خوشی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہو وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ بادشاہ نے وہیں کھڑے کھڑے اپنا پچھلا آرڈر واپس لیا اور اسے وزیر سے وزیراعظم بنا دیا۔
سبق: زندگی اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا تحفہ ہے‘ اس تحفے کی ایک ایک سانس اور ایک ایک سیکنڈ میں خوشی اور مسرت بھری ہے‘ دنیا میں اس مسرت اور خوشی کا صرف ایک قاتل ہے اور وہ ہے خوف‘ ہم اگر اپنی زندگی کو خوف سے بچا لیں تو یہ دنیا جنت بن جائے گی چناں چہ آج سے خود کو ہر قسم کے خوف سے آزاد کر لیں اور اس کے بعد زندگی کی خوشیاں اور مسرتیں دیکھیں‘ یہ یاد رکھیں موت کا ذائقہ ہر نفس کو چکھنا پڑتا ہے لیکن زندگی کا ذائقہ صرف ہماری کہانی کے وزیر جیسے لوگ ہی چکھ پاتے ہیں‘ یہ ذائقہ کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے اور جس کو یہ نصیب ہو جائے اسے خوش نصیب کہتے ہیں یعنی اپنے نصیب پر خوش‘ اپنے حالات پر مطمئن لہٰذا دوستو آج سے زندگی کا ذائقہ چکھنا شروع کریں‘ موت سے پہلے مرنے کی غلطی نہ کریں‘ اپنی میت اپنے ہی کندھوں پر اٹھا کر نہ پھریں‘ یہ زندگی دوبارہ نہیں ملے گی‘ ہم خواہ کتنے ہی طاقتور اور امیر ہو جائیں لیکن ہم کل کے دن آج جیسے نہیں ہو سکیں گے چناں چہ آج کے دن کو آخری اور چند گھنٹوں کو آخری پہر سمجھ کر گزاریں‘ شاید واقعی کل ہو یا نہ ہو لیکن یہ یقین ضرور رکھیں‘ آج ضرور ہو گا‘ اس کو آخری سمجھیں۔
نوٹ: میرے پیار پڑھنے والو! میں آج سے لائف لیسنز کی سیریز شروع کر رہا ہوں‘ یہ زندگی کے وہ سبق ہیں جنہیں ہم زندگی کی دوڑ میں فراموش کر بیٹھتے ہیں‘ ہو سکتا ہے ان میں سے کوئی ایک لیسن آپ کی زندگی کی دوڑ میں پڑی گانٹھ کھول دے اور آپ زیادہ بہتر جینا شروع کر دیں لہٰذا انہیں پڑھیں اور زندگی میں ان کی پریکٹس شروع کریں‘ یہ ان شاء اللہ آپ کی حیات کا پیٹرن بدل دیں گے لیکن اس کے ساتھ ایک اور اعلان۔ ہم یہ سب سے پہلے اپنے واٹس ایپ فرینڈز گروپ میں پیش کریں گے‘ آپ بھی موبائل نمبر5362221 332 92+ پر امجد خلیفہ صاحب سے رابطہ کر کے اس گروپ کا حصہ بن سکتے ہیں



















































