جمعرات‬‮ ، 15 اکتوبر‬‮ 2026 

 عمران خان بھٹو

datetime 15  اکتوبر‬‮  2026

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

 عمران خان بھٹو

یحییٰ بختیار ملک کے نامور وکیل اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی تھے‘ وہ بھٹو دور میں اٹارنی جنرل رہے اور 1973ء کی آئین سازی میں اہم کردار ادا کیا‘ کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور وہیں انتقال ہوا‘ جنرل ضیاء الحق نے جب بھٹو صاحب کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف قتل کیس بنا تو یحییٰ بختیار اس قانونی ٹیم کے سربراہ تھے جس نے بھٹو صاحب کا عدالتوں میں دفاع کیا‘ وہ جیل میں مرحوم سے ملاقاتیں کرتے رہے‘ بھٹو صاحب ان کے ذریعے اپنی فیملی‘ دوست احباب اور پارٹی کو پیغامات بھی بھجواتے تھے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں یحییٰ بختیار کا بھٹو کیس میں وہی کردار تھا جو اس وقت عمران خان کی زندگی میں بیرسٹر گوہر‘ سلمان اکرم راجہ اور سلمان صفدر کا ہے‘ ان کی ایک صاحب زادی زیبا بختیار شوبز میں آئیں اور پاکستان اور انڈیا دونوںمیں بے انتہا شہرت پائی‘ مجھے 2000ء میں کراچی میں یحییٰ بختیار صاحب سے چند ملاقاتوں کا اتفاق ہوا‘ وہ اس وقت اپنی صاحب زادیوں کے ساتھ رہتے تھے‘

علیل تھے لیکن اس کے باوجود ان کا انرجی لیول اور یادداشت کمال تھی‘ مجھے انہوں نے جیل میں ذوالفقار علی بھٹو سے اپنی ملاقاتوں کے بے شمار واقعات سنائے‘ بیگم نصرت بھٹو‘ بے نظیر بھٹو‘ غلام مصطفی کھر‘ ممتاز بھٹو اور بھٹو صاحب کی لیگل ٹیم کے رویوں کے بارے میں بھی بے شمار گفتنی اور ناگفتنی باتیں بتائیں‘ میں بدقسمتی سے وہ تمام باتیں سردست لکھ نہیں سکتا لیکن بہرحال ایک وقت آئے گا جب وہ حقائق بھی تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

میں نے 2000ء کے آخر میں ان سے آخری ملاقات میں ایک سوال کیا‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ انتہائی سمجھ دار اور زیرک انسان ہیں‘آپ نے پوری زندگی وکالت بھی کی‘ ہر قسم کے حالات سے گزرے لیکن آپ اس کے باوجود فوجی حکومت کے ارادوں کا اندازہ نہیں کر سکے ‘آپ جنرل ضیاء الحق اور ججوں کی نیت کیوں نہیں بھانپ سکے‘ آپ اگر چاہتے تو آپ بھٹو صاحب کی جان بچا سکتے تھے‘‘ یحییٰ بختیار نے اس کا کمال جواب دیا‘ ان کا کہنا تھا ’’آپ کو کس نے کہا ذوالفقار علی بھٹو کو ججوں اور جنرل ضیاء الحق نے پھانسی دی‘ بھٹو صاحب اپنی ضد‘ ایروگینس (تکبر) اور خوش فہمی کے ہاتھوں مارے گئے تھے‘ بھٹو صاحب کی بھاری بھرکم شخصیت اور کرشمہ ساز پرسنیلٹی ان کا المیہ بن گئی تھی اور وہ کسی دوسرے شخص کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے‘ میں نے انہیں کئی بار سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان کا رویہ جارحانہ اور بدتمیزانہ تھا‘ میرے ساتھ میرے جونیئر تھے‘ مجھے ان کے سامنے بہت خفت ہوئی چناں چہ میں دوست کی بجائے ان کا وکیل بننے پر مجبور ہو گیا‘ وہ بھی میرے لیڈر سے میرے کلائنٹ بن گئے‘‘ میرے لیے یحییٰ بختیار کا انکشاف حیران کن تھا‘ میں نے ان سے وضاحت چاہی تو ان کا کہنا تھا ’’ذوالفقار علی بھٹو ایک کریزمیٹک پرسنیلٹی (معجزاتی شخصیت) تھے‘ وہ خود کو عقل کل سمجھتے تھے‘ ہم سب ان کے سامنے کیڑے مکوڑے تھے‘

وہ جنرل ضیاء الحق اور ججوں کو بھی حقارت سے مخاطب کرتے تھے‘ عدالت میں جب بھی انہیں بولنے کا موقع ملاوہ ملزم سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو بن گئے‘ بے شک انہوں نے عدالت میں اپنی تقریروں سے بہت داد سمیٹی‘ جج بھی قلم نیچے رکھ کر انہیں توجہ سے سنتے تھے لیکن ان تقریروں کاکیا نتیجہ نکلا‘ وہ پھانسی چڑھ گئے‘‘ یحییٰ بختیار کا کہنا تھا ’’ بھٹو صاحب کو یہ غلط فہمی تھی وہ عالمی لیڈر ہیں اور دنیا ان کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق کے جہاز کو اپنی حدود سے نہیں گزرنے دے گی‘ عرب اپنے سفیر پاکستان سے واپس بلا لیں گے‘ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی‘ لوگ ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے‘ ان کا خیال تھا جنرل ضیاء الحق اور ججوں میں انہیں سزا دینے کی ہمت نہیں‘ عام حالات میں یہ ممکن تھا لیکن وہ زیرک انسان اور لیڈرہونے کے باوجود افغانستان اور ایران میں آنے والی تبدیلیاں فراموش کر بیٹھے‘ وہ یہ حقائق فراموش کر بیٹھے شاہ ایران کی حکومت چند ماہ کی مہمان ہے اور سوویت یونین کی فوجیں بھی افغانستان کی سرحدوں پر جمع ہو رہی ہیں‘ امریکا اور یورپ کو ان حالات میں ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ جنرل ضیاء الحق چاہیے تھا‘ یہ بھٹو کی بجائے جنرل ضیاء کو اہمیت دینے لگا‘ وہ اپنے دوستوں معمر قذافی‘ حافظ الاسد اور یاسر عرفات کی مجبوریوں اور بدلتے ہوئے حالات کا تخمینہ بھی نہیں کر سکے‘ ان کے ذہن میں جنرل ضیاء الحق کا وہ عاجزانہ رویہ تھا جس میں وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر وزیراعظم سے مخاطب ہوتے تھے یا انہیں دیکھ کر جلتا ہوا سگریٹ اپنی جیب میں ڈال لیتے تھے یا دو دو گھنٹے ملاقات کے انتظار میں وزیراعظم آفس کے ویٹنگ روم میں بیٹھے رہتے تھے اور آخر میں بھٹو صاحب انہیں جنرل صاحب کی بجائے ضیاء کہہ کر مخاطب ہوتے تھے اور وہ ان کے سامنے بیٹھنے کی جرات بھی نہیں کرتے تھے‘ وہ یہ بھول گئے یہ جنرل ضیاء الحق ماضی کے جنرل ضیاء سے مکمل مختلف ہے‘

یہ صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہے۔ججوں کی خامیوں اور کم زوریوں نے بھی انہیں بے انتہا گم راہ کیا‘ ان کا خیال تھا یہ کیڑے مکوڑے انہیں سزا سنانے کی جرات نہیں کریں گے لیکن ان کیڑے مکوڑوں نے انہیں سزا بھی سنائی اور اس پرعمل بھی کیا‘ یحییٰ بختیار کے بقول میں نے سزا کے بعد بھی انہیں رویہ بدلنے کا مشورہ دیا تھا‘ انہیں عالمی دوستوں کے ذریعے درمیان کا راستہ نکالنے کی صلاح بھی دی لیکن بھٹو صاحب نے حقارت کے ساتھ میرا مشورہ مسترد کر دیا‘ ان کا خیال تھا یہ سزا محض ڈراوا ہے‘ جنرل ضیاء انہیں پھانسی دینے کی غلطی نہیں کرے گا‘ یہ لوگ مجھے صرف ڈرانا اور گھٹنوں پر لانا چاہتے ہیں‘ وہ اس ضمن میں مجھے شیکسپیئر کے ڈراموں کے مکالمے بھی سنایا کرتے تھے چناں چہ میرے پاس خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا‘‘ ۔میں نے ان سے پوچھا ’’کیا انہیں بیگم نصرت بھٹو اور مبشر حسن جیسے پرانے ساتھی بھی نہیں سمجھاپاتے تھے‘‘ یحییٰ بختیار نے ہنس کر جواب دیا ’’آپ کو بھٹو صاحب کے کرزمے کا اندازہ ہی نہیں‘ ان کے سامنے کوئی شخص بات نہیں کر سکتا تھا‘ ان کا انرجی لیول ہر وقت ہائی رہتا تھا‘ آپ ان کی انا اور غرور کا اندازہ اس سے کر لیجیے‘ انہوں ے پھانسی کے وقت بھی جلاد تارا مسیح کو حکم دیا تھا ’’جسٹ فنش اٹ‘‘ چناں چہ بھٹو صاحب کو جنرل ضیاء یا ججوں نے نہیں مارا‘ دنیا میں اگر ان کا کوئی قاتل تھا تو وہ خود بھٹو صاحب تھے‘ آپ خود سوچیں اگر کوئی انسان کسی طاقتور شخص کے لیے سیکورٹی تھریٹ بن جائے تو کیا وہ اسے چھوڑے گا؟ بھٹو صاحب بھی سب کے لیے تھریٹ بن چکے تھے‘ یحییٰ بختیار نے انکشاف کیا‘ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں کے ساتھ کام کا اتفاق ہوا‘ میں بے نظیر بھٹو کا اٹارنی جنرل اور نواز شریف کا وکیل رہا ہوں‘ مجھے خطرہ ہے بے نظیر بھٹو بھی مستقبل میں بھٹو بن جائیں گی کیوں کہ یہ بھی کسی کا مشورہ نہیں لیتیں‘ خود کو عقل کل سمجھتی ہیں‘ ان کے مقابلے میں نواز شریف سمارٹ ہیں‘ میں نے ان کا مقدمہ لڑا‘ یہ اپنے وکیلوں کو بات کرنے کا موقع بھی دیتے تھے اور ان کے مشورے بھی مانتے تھے لہٰذا یہ جنرل مشرف کے ہاتھوں سے بچ نکلیں گے‘‘۔یحییٰ بختیار کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور نواز شریف پورے خاندان سمیت 10 دسمبر 2000ء کو جیل سے سعودی عرب شفٹ ہو گئے۔میں اس زمانے میں ناتجربہ کار اور کچے ذہن کا انسان تھا چناں چہ مجھے یحییٰ بختیار کی باتیں عجیب محسوس ہوئیں‘ میرا خیال تھا یہ بطور وکیل بھٹو صاحب کو نہیں بچا سکے لہٰذا اب اپنی ناکامی اور نالائقی کو فلسفے کی شکل دے رہے ہیں لیکن جب عمران خان کی شکل میں ایک نیا بھٹو میرے سامنے آیا اور میں نے اسے سیلوٹ سے دھکوں تک کا سفر کرتے اور آخر میں کے پی میں آخری امید کو دم توڑتے دیکھا تو مجھے 26 برس بعد یحییٰ بختیار سچے محسوس ہوئے اور میں یہ ماننے پر مجبور ہو گیا لیڈر جب دیوتا بن جاتے ہیں تو پھر ان کے نصیب میں جیل اور پھانسیاں رہ جاتی ہیں۔

عمران خان کی اٹھان بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح تھی‘ یہ بھی بھٹو صاحب کی طرح فارن کوالی فائیڈ اور یورپیوں کے ساتھ پلے بڑھے تھے‘ انگریز اور انگریزی دونوں کو سمجھتے تھے‘ بے انتہا بااعتماد تھے‘ یہ بھی ورلڈ سٹار تھے‘ یہ بھی بھٹو صاحب کی طرح اسٹیبلشمنٹ اور عوام دونوں کے محبوب تھے‘ دونوں دل سے ان پر فدا تھے‘ اسٹیبلشمنٹ نے ان کو اقتدار میں لانے کے لیے قومی مفادات تک قربان کر دیے تھے‘ ملک کی دوستیاں تک دائو پر لگا دی گئیں‘ ملک کا امیج تک قربان کر دیا گیا لیکن پھر عمران خان بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح غلط فہمی کا شکار ہو گیا‘ اس کا بھی خیال تھا میرے بعد ملک اور اسٹیبلشمنٹ دونوں عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو جائیں گے‘ امریکا اور برطانیہ پاکستان کی مت مار کر رکھ دیں گے‘ آئی ایم ایف ملک کو قرض نہیں دے گا اور ورلڈ بینک اپنے سارے آپریشن وائینڈ اپ کر دے گا‘ عوام چھائونیوں پر حملے کریںگے‘ جج میرے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور اداروں کے اندر تقسیم ہو جائے گی اور یہ جیل سے باہر آ کر ذمہ داروں کو چوکوں میں پھانسی دیں گے‘

عمران خان کا یہ خیال وقتی طور پر درست ثابت ہوا‘ پاکستان واقعی سفارتی تنہائی شکار ہوا‘ معیشت کو بھی جھٹکا لگا‘ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کی چیخیں نکلوادیں‘ چھائونیوں پر حملے بھی ہوئے‘ ملک بھی بند ہوا‘ سوشل میڈیا پر کاکروچوں کا حملہ بھی ہوا‘ جج بھی ’’گڈ ٹو سی یو‘‘ کہہ کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور بڑے سرکاری افسروں نے بھی عشق عمران میں اپنی نوکریاں قربان کر دیں لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکا اور اسٹیبلشمنٹ وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی چلی گئی‘ جیو پولیٹیکل صورت حال نے بھی اسے سپورٹ کیا‘ ایران امریکا جنگ‘ پاک بھارت جنگ اور آخر میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے ساری کسر نکال دی‘ یہ حقیقتیں عمران خان کو سمجھانے کے لیے کافی ہونی چاہیے تھیں مگر یہ بھی بھٹو صاحب کی طرح اعتماد‘ انا‘ تکبر اور روحانی مغالطے کا شکار ہو گئے‘ یہ بھی کیوں کہ بھٹو صاحب کی طرح کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں چناں چہ انہیں بھی کوئی شخص مشورہ نہیں دے سکتا تھا‘ آج سے دو سال قبل امریکا سے ان کے چند دوست سمجھانے کے لیے جیل گئے لیکن عمران خان نے اٹھ کر دروازہ پیٹنا اور سپرنٹنڈنٹ کو چیخ چیخ کر انہیں باہر نکالنے کا حکم دینا شروع کر دیا‘ علی امین گنڈا پور نے ایک بار اپنے لیڈر کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن قائد نے جوتا اتار لیا‘ علیمہ خان نے بھی ایک بار ان کے سامنے عقل کی بات کی تو انہوں نے وکلاء کے ذریعے باہر پیغام بھجوادیا ’’یہ فاطمہ جناح بننا چاہتی ہے‘ اس کا پارٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘‘ جیل میں جب القادر ٹرسٹ‘ توشہ خان اور سائفر کے کیس چل رہے تھے تو یہ جج کو اردلی اور کٹھ پتلی کہہ دیا کرتے تھے۔ (جاری ہے)

موضوعات:



کالم



 عمران خان بھٹو


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…