اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

datetime 11  اکتوبر‬‮  2026

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)
بلوچستان کے حالات کی خرابی کی بڑی ذمہ دار ریاست ہے‘ ریاست کی پہلی غلطی ریاست کا تصور ہے‘ ہم نے قیام کے فوراً بعد اپنے ہمسایوں سے لڑنا شروع کر دیا ‘

ہم بھارت کو اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں اور اس دشمنی میں ہم نے 80 سال اور آدھا ملک گنوا دیا‘ افغانستان میںمرضی کی حکومت کے چکر میں بھی وقت اور وسائل ضائع کر دیے اور آخر میں پوری افغان قوم کوبھی اپنا مخالف بنا لیا‘ آپ کسی دن افغانستان میں پاکستانیوں کے بارے میں سروے کرا کے دیکھ لیں‘ ہمارے سارے طبق روشن ہو جائیں گے‘ ہم طالبان کو بھی 30 سال پالتے رہے‘ امریکا کی بھرپور مخالفت کے باوجود ہم نے 20 سال انہیں چھپائے رکھا‘ ہم نے انہیں اقتدار میں لانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا دیا لیکن حکومت میں آنے کے بعد یہ اب پاکستان کے وجود کے لیے خطرناک ترین ہو چکے ہیں‘ ایران کے ساتھ ہمارے اختلافات سکندر مرزا کی تدفین سے شروع ہوئے‘ شاہ ایران نے ایوب خان کو ٹیلی فون کر کے درخواست کی سکندر مرزا لندن میں بیمار ہیں‘ یہ اپنے آخری دن کراچی میں اپنے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں‘ آپ انہیں اجازت دے دیں لیکن ایوب خان نے انکار کر دیا‘ سکندر مرزا 13 نومبر 1969ء کو لندن میں وفات پا گئے‘ اس وقت یحییٰ خان صدر تھے‘ شاہ ایران نے سکندر مرزا کی پاکستان میں تدفین کے لیے درخواست کی‘ یحییٰ خان نے انکار کر دیاجس کے بعد شاہ ایران نے اپنا شاہی طیارہ لندن بھجوا کر میت تہران منگوائی اور سکندر مرزا کو شاہی اعزاز کے ساتھ تہران میں دفن کر دیا‘ یہ واقعہ پاکستان اور ایران کے درمیان اختلافات کا باعث بنا اور اس کے بعد تعلقات کبھی ٹھیک نہیں ہو سکے‘ بھارت نے افغانستان اور ایران سے ہمارے تعلقات کی خرابی کا خوب فائدہ اٹھایا اور یہ ہمارے ہمسائے میں آ کر بیٹھ گیا‘ چین ہمارا تیسرا ہمسایہ ہے‘ ہمارے اس کے ساتھ تعلقات ٹھیک ہیں لیکن 1990ء کی دہائی میں یہ تعلقات بھی دائو پر لگ گئے تھے‘ سنکیانگ میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کی تحریک شروع ہوئی اور اس کے ’’مجاہدین‘‘ لاہور میں ٹریننگ لینے لگے‘ چینی حکومت نے تمام ثبوت پاکستان کے سامنے رکھ دیے‘ جنرل کاکڑ نے ان کے خلاف آپریشن کیا اور یوں چین پاکستان تعلقات بچ گئے لیکن چین کو مطلوب لوگ افغانستان میںجا کر بیٹھ گئے‘ یہ آج ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے رابطے میں ہیں اور ان کے ذریعے انہیں چند عاقبت نااندیش پاکستانی سپورٹ کر رہے ہیں‘ ہم اگر ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچیں تو کیا ہم خود کو عقل مند کہیں گے کہ ہم چار میں سے تین ہمسایوں کے ساتھ مسلسل لڑ رہے ہیں اور سرحدوں کے اندر مقید ہو چکے ہیں‘

یورپ چار سو سال کی دشمنیوں اور جنگوں کے بعد اپنے سارے بارڈرز کھولنے پر مجبور ہو چکا ہے اور اس کے لوگ اپنی گاڑیوں پر پورے یورپ میں بلا روک ٹوک پھرتے رہتے ہیں جب کہ ہمارے تین ہمسایوں نے ہمارے ویزے بند کر رکھے ہیں اور چوتھا ایڑیاں رگڑنے کے بعد ہمیں ویزہ دیتا ہے اور وہاں بھی ہم پولیس کی نگرانی میں رہتے ہیں‘ کیا یہ پالیسی عقل مندانہ ہے‘ دوسرا ہم 80 برس سے ملک کے اندر بھی حالت جنگ میں ہیں‘ ایک کو اقتدار سے نکالنا‘ دوسرے کو لانا اور پھر اسے بھی گھسیٹ کر کرسی سے نیچے پھینک دینا یہ ہماری 80 سال سے قومی سیاسی پالیسی ہے لہٰذاآج کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت ریاست اور اسٹیبلشمنٹ سے مخلص نہیں ہے‘ آج وزیراعظم بھی دن گن رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیلڈ مارشل کی تعریف کر کے اپنی نوکری پکی کر رہے ہیں‘ ریاست بلوچستان اور کے پی میں آپریشن کرنا چاہتی ہے لہٰذا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو مزید اڑھائی سال دے دیے گئے ہیں‘ اس کے عوض ن لیگ کوسردار ایاز صادق کو مزید اڑھائی سال سپیکر رکھنے کی اجازت دے دی گئی جب کہ کے پی میں ایمرجنسی لگا کر سہیل آفریدی کو فارغ کیا جا رہا ہے اور ان کی جگہ اڑھائی سال کے لیے ایڈمنسٹریٹر لگایا جا رہا ہے لیکن اڑھائی سال بعد جب سرفراز بگٹی اور کے پی کا ایڈمنسٹریٹر فارغ کیا جائے گا اور ان کے خلاف بھی کرپشن کے کیس بنیں گے تو یہ بھی ریاست کے خلاف ہو چکے ہوں گے‘یہ ہے ہماری قومی پالیسی۔ آپ پاکستان کی 80 سال کی سیاسی تاریخ نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو ہر دور میں کوئی نہ کوئی بڑی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سڑکوں پر نظر آئے گی اور پولیس اور رینجرز اس کے ساتھ وہی سلوک کر رہی ہو گی جو اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے‘ اس افراتفری کی وجہ سے حکومتیں لانگ ٹرم پالیسیاں نہیں بنا سکیں اور نتیجے میں بلوچستان جیسے حالات نے جنم لے لیا۔

ریاست اگر شروع ہی میں بلوچستان کو چارحصوں (صوبوں) میں تقسیم کر دیتی تو شاید آج حالات مختلف ہوتے‘ یہ اگر سرداروں کی بجائے عوام پر توجہ دیتی‘ پنجاب‘ سندھ اور کے پی کے قریب موجود بلوچ شہروں میں انڈسٹریل سٹیٹس بنوا کر انہیں ٹیکس فری زون بنا دیتی اور نوے فیصد نوکریاں بلوچوں کودے دی جاتیں تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔ بلوچستان کی کوسٹل لائین کے ساتھ اگر دس بیس چھوٹے شہر آباد کر دیے جاتے اور انہیں دوبئی جیسا انٹرنیشنل سٹیٹس مل جاتا تو بھی شاید آج صورت حال مختلف ہوتی ۔اگر 1950ء میں بلوچستان کے سارے بی ایریاز کو اے میں تبدیل کر دیا جاتا‘ سرداروں کی لیویز کو پولیس میں بھرتی کر لیا جاتا‘ ریگولر یونیورسٹیوں اور کالجز کی جگہ ٹیکنیکل یونیورسٹیاں اور پولی ٹیکنیکل کالج بنائے جاتے اور ان سے نکلنے والے نوجوانوں کو گلف کے ممالک اور پنجاب اور سندھ میں نوکریاں دی جاتیں تو بھی شاید آج حالات مختلف ہوتے‘ ریاست نے اگر شروع ہی میں خیربخش مری اور ان کے صاحب زادوں پر نظر رکھی ہوتی‘ انہیں افغانستان جانے کا موقع نہ دیتی اور اگر یہ چلے ہی گئے تھے تو پھر انہیں واپس نہیں آنے دینا چاہیے تھا۔ ریاست کو یہ ماننا ہو گا ہم نے حب الوطنی اور غداری کی میوزیکل چیئر کے کھیل میں بلوچستان کے ساتھ ساتھ پورے ملک کا بیڑا غرق کر لیا‘ ایک بندوق علی خان آیا تو اس نے خیر بخش مری کو غدار قرار دے دیا‘ دوسرا رائفل علی خان آیا تو وہ اسے محب وطن قرار دے کر فوجی جہاز میں کابل سے واپس لے آیا‘ایک نے مریوں کو نکال دیا اور دوسرے نے انہیں کوئٹہ کے مضافات میں زمینیں الاٹ کر دیں‘ ایک نے مری کے صاحب زادوں کو ملک سے باہر بھجوا دیا‘ دوسرے نے انہیں واپس لا کر وزیر بنا دیا اور یہ جب خزانے سے اربوں روپے نکال رہے تھے اور بلوچ نوجوانوں کو بی ایل اے میں بھرتی کر رہے تھے تو اس وقت ریاست خاموشی سے تماشا دیکھتی رہی تھی‘ ایک صاحب نے نواب اکبر بگٹی کو گورنر بنا دیا اور دوسرے نے اسے 80سال کی عمر میں جب وہ چھڑی کے بغیر کرسی سے نہیں اٹھ سکتا تھا اسے میزائل سے غار میں قتل کر دیا لہٰذا ہمیں ماننا ہوگا‘ ہم ایک ایسے تماشے کا شکار ہو چکے ہیں جس میں ایک صاحب طالبان کی امامت میں نماز پڑھتا ہے‘ ان کے ہاتھ چوم کر انہیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سنگ میل قرار دیتا ہے اور دوسرا انہیں خوارج قرار دے کر ان کے خلاف جہاد شروع کر دیتا ہے‘ ایک آغاز حقوق بلوچستان کے نام پر ریاست کے قاتلوں کو عام معافی دے دیتا ہے جب کہ دوسرا انہیں فتنہ الہندوستان قرار دے کر ان کے خلاف آپریشن شروع کر دیتا ہے اور ایک صاحب سردار اختر مینگل کو وزیراعلیٰ بنا دیتا ہے جب کہ دوسرا اسے غدار ثابت کرنے لگتا ہے لہٰذا آپ آج اس کھیل کا نتیجہ دیکھ لیں‘ آج بلوچستان نہ صرف ڈوب رہا ہے بلکہ حکومت کی رٹ چند سڑکوں اور دیواروں کے اندرمحصور ریڈزون تک محدود ہو چکی ہے‘

بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گرد شہروں میں دندناتے پھر رہے ہیں‘ یہ ٹرک اور بسیں روک کر مسافروں کو گولی مار دیتے ہیں اور گاڑیوں کو آگ لگا دیتے ہیں‘ پنجابی اور سندھی ان کا خصوصی ہدف ہیں چناں چہ بلوچستان کو کپاس چننے‘ کھجوریں اتارنے‘ گاڑیوں کی مرمت کرنے‘ ڈرائی فروٹ خریدنے اور بال کاٹنے والے حجام بھی نہیں مل رہے‘ سرکاری ملازمین بھی بلوچستان جانے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ یہ ٹرانسفر کے بعد لمبی چھٹی لے لیتے ہیں یا پھر نوکری چھوڑ دیتے ہیں‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کو مقامی لوگوں کی حمایت اور تعاون حاصل ہے‘ مقامی لوگ آپریشن کی صورت میں انہیں اپنے گھروں میں پناہ دے دیتے ہیں‘ حکومت دہشت گردوں کی معاونت کی وجہ سے اب تک سینکڑوں ڈاکٹرز‘ پروفیسرز‘ اساتذہ اور پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کر چکی ہے لیکن یہ سلسلہ رک نہیں رہا‘ میں نے چند دن قبل ایک رپورٹ(جون 2026ء میں گوادر پولیس نے 14 اہلکاروں کو فارغ کیا جب کہ جولائی 2024ء میں 200 پولیس اہلکاروں کو غفلت‘ نااہلی اور مسلسل غیرحاضری کی وجہ سے فارغ کیا گیا) دیکھی جس میں انکشاف ہوا بلوچستان حکومت دہشت گردوںکی معاونت کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکالنے پر مجبور ہو چکی ہے‘ پشین کوئٹہ سے 55کلومیٹر دور ہے‘ دہشت گرد وہاں دن کے وقت پھر رہے ہوتے ہیں‘ حکومت کوئٹہ کے سریاب روڈ پر قدم نہیں رکھ سکتی‘ مجھے ایک صوبائی وزیر اور وزیراعلیٰ کے مشیر نے بتایا ہم سرکاری گاڑی میں سریاب روڈ نہیں جاتے‘ ہم عام کار میں بیٹھ کر جاتے ہیں اور اپنی شناخت چھپا کر رکھتے ہیں اور یہ کوئٹہ شہر کی صورت حال ہے‘ بلوچستان میں پہلی بار خودکش حملہ آور سکواڈ بنا اور نوجوان لڑکیاں اس میں شامل ہو رہی ہیں‘

بلوچستان کے خلاف زیادہ تر کارروائیاں افغانستان‘ ایران اور یو اے ای سے ہو رہی ہیں‘ را اور اسرائیلی ایجنٹس دوبئی میں بیٹھ کر باغیوں کو رقم‘ ٹریننگ اور سوشل میڈیا سپورٹ دے رہے ہیں‘ یورپی ملک بی وائے سی کو فنڈ دے رہے ہیں‘ جرمنی اور ناروے میں ان کے دفاتر کھلے ہوئے ہیں‘ کینیڈا اور امریکا تک سے انہیں سپورٹ مل رہی ہے‘ بی ایل اے کی لیڈر شپ برطانیہ اور سوئٹزر لینڈ میں بیٹھی ہے‘ اس کے پاس بھارتی پاسپورٹ بھی ہیں لیکن ریاست سیاسی اور سفارتی مجبوریوں کی وجہ سے یہ حقائق دنیا کے سامنے نہیں رکھ پا رہی‘ ہم آج بھی کھل کر حقائق کا اظہار نہیں کر رہے مگر سوال یہ ہے ہم آخر کب بولیں گے؟ کیا اس وقت جب بلوچستان سے پاکستان کے جھنڈے اتار دیے جائیں گے؟ ملک میں میڈیا بچا تھا جو کسی نہ کسی فورم پر آواز اٹھا لیتا تھا لیکن یہ بھی اب ختم ہو چکا ہے‘ اب کوئی چیز‘ کوئی خبر‘ کوئی تبصرہ یا کوئی خیال ریاست کی مرضی کے بغیر کسی اخبار میں چھپ سکتا ہے اور نہ کسی ٹی وی سکرین پر آ سکتا ہے‘ یہ سختی اب سوشل میڈیا پر بھی نظر آ رہی ہے لہٰذا اب کسی بھی صحافی کے پاس بولنے یا لکھنے کے بعد دو آپشن بچتے ہیں‘ یہ ’’ڈیلیٹ‘‘ کر دے یا پھر خود ’’ڈیلیٹ‘‘ ہو جائے‘ میری عمر کے لوگ پہلے آپشن پر چلے گئے ہیں کیوں کہ ہم طویل عرصے سے مار کھا کھا کرسمجھ دار بلکہ بے غیرت ہو چکے ہیں‘ سروائیول موڈ میں چلے گئے ہیں اور ہم بھی اب منہ سے بولنے پر مجبور ہیں ’’جیسا چل رہا ہے‘ اسے ویسے ہی چلنے دیں‘‘ لیکن سوال یہ ہے کیا ملک واقعی چل رہا ہے اور کیا یہ مزید ایسے چل سکے گا؟ میں تمام تر سمجھ داری اور صحافیانہ بے غیرتی کے باوجود یہ ماننے پر مجبور ہوں ملک چل رہا ہے اور نہ یہ مستقبل میں چل سکے گا‘ ہم اگر اسے واقعی چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا اور اس کے بعد ایک ایسی نیشنل پالیسی بنانا ہوگی جسے کوئی توپ علی خان آ کر نہ بدل سکے ورنہ دوسری صورت میں اپنے اپنے گھروں میں راشن اکٹھا کر لیں اور طویل خانہ جنگی کے لیے تیار ہو جائیں۔
نوٹ: بلوچستان کے حوالے سے ہمارا اگلا کالم آخری ہوگا جس میں ہم چند تجاویز قوم کے سامنے رکھیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…