منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

جعلی رانی مکھرجی اور بیوقوف پاکستانی میڈیا

datetime 8  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے جہاں دنیا کے ایک کونے میں موجود شخص کو دوسرے کونے میں موجود شخص سے ملانے میں اہم کردار ادا کیا ہے تو وہیں اس کا غلط استعمال بھی بہت عام ہوچکا ہے۔آئے روز ہم اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جعلی فیس بک اکاو¿نٹس سے شرارت یا کسی اور نیت کے تحت جہاں ایک دوسرے کو بیوقوف بنایا جاتا ہے تو وہیں اس کے غلط استعمال سے معاشرے میں خرافات بھی جنم لے رہی ہیں اور جرائم پیشہ افراد اس کا استعمال اپنا پروپیگنڈا عام کرنے کے لیے بھی کرتے ہیں اور والدین کی نگرانی کے بغیر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بچے ان عناصر کا آسان ہدف ٹھہرتے ہیں۔بات جب ’ٹوئٹر‘ کی ہو تو یہ معاملہ زیادہ حساس ہوجاتا ہے کیونکہ آج کے ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دور میں ٹوئٹر ایک ایسا ذریعہ ہے جو دنیا بھر سے تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کئی نئی خبروں کو بھی جنم دیتا ہے اور محض ایک ٹوئیٹ کے ذریعے سامنے آنے والی بات دیکھتے ہی دیکھتے ’بریکنگ نیوز‘ کی شکل اختیار کرلیتی ہے (قطع نظر اس کے کہ بات بریکنگ نیوز بننے کے قابل ہے بھی یا نہیں)۔ٹوئٹر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج دنیا بھر کے کروڑوں عام انسانوں کے علاوہ سیاست، شوبز، کھیل، معیشت غرض ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات یہاں موجود ہیں جو اس کے ذریعے اپنے پیغامات اور جذبات عام لوگوں تک پہنچارہے ہیں۔لیکن اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو بدقسمتی سے ان شخصیات کے اصل اکاو¿نٹ سے زیادہ جعلی اکاو¿نٹس موجود ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی نامور شخصیت کے نام سے ٹوئٹر اکاو¿نٹ سرچ کریں تو ڈھیروں اکاو¿نٹس کی فہرست آپ کے سامنے آجاتی ہے اور اگر ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے اصلی اکاو¿نٹ کی تصدیق نہیں کی گئی ہو تو آپ کے لیے یہ پہچاننا بہت مشکل ہوجاتا ہے ہے کون سا اکاو¿نٹ اصلی ہے اور کون سا جعلی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ٹوئٹر پر کسی معروف اور جانی پہچانی شخصیت کی ایک ٹوئٹ بھی بڑی خبر بن جاتی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ افراتفری اور دوسروں پر بازی لے جانے کے اس جنون میں ہمارے چند میڈیا ادارے اس بات کی صداقت یا اس اکاو¿نٹ کی اصلیت جاننے کی زحمت کیے بغیر ریٹنگ حاصل کرنے اور اپنے چینل کا نام اونچا کرنے کے لیے چلادیتے ہیں، جس کا اکثر اس بیچاری شخصیت کو علم تک نہیں ہوتا۔اگرچہ کسی تصویر کی تصدیق مشکل کام ہے مگر کسی خبر کی تصدیق کرنا کسی صحافی کے کام کا بنیادی جزو ہے اور اسی کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔گزشتہ اپریل چند اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ 90 کی دہائی میں مشہور ٹی وی سیریل ‘عینک والا جن’ سے شہرت حاصل کرنے والے ‘زکوٹا جن’ یعنی مطلوب الرحمنٰ عرف منّا لاہوری انتقال کر گئے ہیں، حالانکہ وہ بیمار ضرور مگر زندہ تھے۔ اس خبر کی تصدیق لاہور کے الحمرا آرٹ کونسل کو صرف ایک فون کر کے باآسانی کی جاسکتی تھی۔ اس سے نہ صرف لوگوں کے میڈیا پر سے اعتماد کو ٹھیس پہنچی بلکہ منّا لاہوری کو بھی شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر یہ بات اخبارات یا ٹی وی چینلز کی زینت نہ بنتی تو شاید لوگ اس کا یقین نہیں کرتے لیکن اکثریت ایسی ہے جو بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز کا یقین کرتی ہے۔ قارئین کو شاید یاد ہو کہ ہمارے میڈیا نے معروف شاعر احمد فراز صاحب کی وفات کی خبر بھی بغیر تصدیق کیے چلا دی تھی، جس پر ان کے صاحبزادے شبلی فراز کو ٹی وی پر تردید کرنی پڑی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…