بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے 10 کروڑ سال پرانی کیا چیز دریافت کرلی ؟ جان کر دنگ رہ جائینگے ، غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ

datetime 10  دسمبر‬‮  2016 |

لندن(آئی این پی )سائنسدانوں نے پہلی بار لگ بھگ 10 کروڑ سال پرانےلندن(آئی این پی )سائنسدانوں نے پہلی بار لگ بھگ 10 کروڑ سال پرانے ڈائنا سار کے پروں والی دم دریافت کرلی ۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق سائنسدانوں نے پہلی بار لگ بھگ 10 کروڑ سال پرانے ڈائنا سار کے پروں والی دم کو ایک عنبر سے دریافت کیا ہے جو اس لیے حیران کن ہے کیونکہ اس سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ زمانہ قدیم کے ان جانوروں کے پر بھی تھے۔1.4 انچ لمبی یہ دم فوسلز کے خزانوں کا ایک حصہ ہے جسے چین کی جیو سائنسز یونیورسٹی کے ماہرین نے گزشتہ سال میانمار کی ایک عنبر مارکیٹ میں دریافت کیا تھا۔یہ نو کروڑ 90 لاکھ سال پرانی دم ممکنہ طور پر ایک چھوٹے پروں والے ڈائنا سار کی ہوسکتی ہے جس کی جسامت موجودہ دور کی چڑیا کے برابر ہوگی۔سائنسدانوں کے خیال میں یہ ایک بچے کی دم ہوگی جو شمال مغربی میانمار میں مرگیا ہوگا، جس کے بعد اس کی دم درخت کی رال (گوند) کا حصہ بن گئی۔محققین کے مطابق پہلی بار ایک اچھی طرح محفوظ ڈائنا سار کی ہڈیاں، نرم ٹشوز اور پر دریافت ہوئے ہیں جس سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ کس طرح ان جانوروں کے پر بڑھے۔محققین نے اس دم کا مائیکرو اسکوپ اور سی ٹی اسکین سے تجزیہ کرکے یہ دریافت کیا کہ یہ پر اوپر سے گہرے رنگ کے جبکہ نیچے زرد رنگ کے ہوں گے۔ان کے بقول سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ یہ انتہائی قدیم پر بالکل اس طرح کی ساخت رکھتے ہیں جیسی آج کل کے پرندوں میں بھی دریافت کی جاسکتی ہے۔
کے پروں والی دم دریافت کرلی ۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق سائنسدانوں نے پہلی بار لگ بھگ 10 کروڑ سال پرانے ڈائنا سار کے پروں والی دم کو ایک عنبر سے دریافت کیا ہے جو اس لیے حیران کن ہے کیونکہ اس سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ زمانہ قدیم کے ان جانوروں کے پر بھی تھے۔1.4 انچ لمبی یہ دم فوسلز کے خزانوں کا ایک حصہ ہے جسے چین کی جیو سائنسز یونیورسٹی کے ماہرین نے گزشتہ سال میانمار کی ایک عنبر مارکیٹ میں دریافت کیا تھا۔یہ نو کروڑ 90 لاکھ سال پرانی دم ممکنہ طور پر ایک چھوٹے پروں والے ڈائنا سار کی ہوسکتی ہے جس کی جسامت موجودہ دور کی چڑیا کے برابر ہوگی۔سائنسدانوں کے خیال میں یہ ایک بچے کی دم ہوگی جو شمال مغربی میانمار میں مرگیا ہوگا، جس کے بعد اس کی دم درخت کی رال (گوند) کا حصہ بن گئی۔محققین کے مطابق پہلی بار ایک اچھی طرح محفوظ ڈائنا سار کی ہڈیاں، نرم ٹشوز اور پر دریافت ہوئے ہیں جس سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ کس طرح ان جانوروں کے پر بڑھے۔محققین نے اس دم کا مائیکرو اسکوپ اور سی ٹی اسکین سے تجزیہ کرکے یہ دریافت کیا کہ یہ پر اوپر سے گہرے رنگ کے جبکہ نیچے زرد رنگ کے ہوں گے۔ان کے بقول سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ یہ انتہائی قدیم پر بالکل اس طرح کی ساخت رکھتے ہیں جیسی آج کل کے پرندوں میں بھی دریافت کی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…