ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پلوٹو کے بعد خلائی مشن نیو ہورائزن کو نیا ہدف مل گیا

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے نیو ہورائزن خلائی جہاز کو پلوٹو کے قریب سے گزرنے کے بعد ایک نیا ہدف مل گیا ہے۔اس ہدف کو 2014 MU69 کا نام دیا گیا ہے۔
یہ ہدف ان دو دمدار ستاروں جیسے اجرامِ فلکی میں سے ایک ہے، جس پر اس مشن پر کام کرنے والے ناسا کے ماہرینِ فلکیات غور پر کر رہے ہیں۔
امریکی خلائی ادارہ مشن کی توسیع کی منظوری سے قبل اس منصوبے کا ازسرِ نو جائزہ لے گا۔ نیو ہورائزن جولائی کے مہینے میں پلوٹو کے انتہائی قریب سے گزرا تھا اور بونے سیارے کی سطح سے اس کا فاصلہ محض 12 ہزار 500 کلو میٹر رہ گیا تھا۔اب جبکہ نیو ہورائیزن پلوٹو سے دور کائیپر بیلٹ کی طرف جا رہا ہے اور نئی دنیا سے آمنا سامنا ہونے کے بعد یہ زمین پر ڈیٹا بھی بھیج رہا ہے، ہم چھان بین کرنے والی مشین کے لیے دور ایک نئی منزل کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ مشن کافی کم خرچ ہوگا لیکن اس سے بھی نئی اور زبردست سائنسی معلومات ملیں گی۔
ناسا مشن کے سربراہ
ایسے چیزیں نظامِ شمسی کا بیرونی حصہ بنتے ہیں جسے کائیپر بیلٹ کہا جاتا ہے۔
ناسا کے سائنس مشن کے سربراہ جون گرنسفیلڈ کہتے ہیں ’اب جبکہ نیو ہورائزن پلوٹو سے دور کائیپر بیلٹ کی طرف جا رہا ہے اور نئی دنیا سے آمنا سامنا ہونے کے بعد یہ زمین پر ڈیٹا بھی بھیج رہا ہے، ہم چھان بین کرنے والی مشین کے لیے دور ایک نئی منزل کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ مشن کافی کم خرچ ہوگا لیکن اس سے بھی نئی اور زبردست سائنسی معلومات ملیں گی۔‘
مشن کے ریسرچر ایلن سٹرن نے ناسا کے اس نئے ہدف کو ’زبردست انتخاب‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا اس مشن میں کم ایندھن لگے گا۔
گذشتہ سال موسم گرما میں ہبل نامی خلائی دوربین کے ذریعے نیو ہورائزن کے خلائی سفر کے راستے میں پانچ برفیلے اجرام دریافت کیے گئے تھے جنھیں کم کرکے دو تک محدود کر دیا گیا تھا۔
اس سال اکتوبر کے آخر یا نومبر میں خلائی جہاز اپنے انجنوں کو جلائے گا تاکہ نئے ہدف کی جانب راستے بنا سکے جس سے اس کا سامنا یکم جنوری سنہ 2019 میں ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…