جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

روسی ارب پتی کاخلائی مخلوق کی تلاش کیلئے ایک سو ملین ڈالر کا عطیہ

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

ماسکو(نیوزڈیسک)کائنات میں خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے ایک روسی ارب پتی نے ایک سو ملین ڈالر کا عطیہ فراہم کیا ہے۔ اس منصوبے میں دنیا کے مشہور ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ مشیر کی حیثیت سے شریک ہیں۔کیا ہم اس کائنات میں تنہا ہیں یا کوئی خلائی مخلوق بھی پائی جاتی ہے؟ انسان اس سوال کے جواب میں ایک عرصے سے سرگرداں ہے۔ اب اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے روسی ارب پتی یورج مِلنر نے ایک سو ملین ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعلان آج لندن میں کیا۔یہ روسی ارب پتی، جس وقت لندن میں اس نئے تحقیقی منصوبے کا اعلان کر رہے تھے، اس وقت ان کے ساتھ دنیا کے نامور سائنسدان بھی موجود تھے، ان میں اسٹیفن ہاکنگ بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے کا نام بریک تھرو لِسن رکھا گیا ہے۔رقم عطیہ کرنے والے ارب پتی مِلنر ایک ٹیم منتخب کریں گے اور یہ ٹیم دس برس تک کائنات میں پیدا ہونے والی آوازوں کو سنیں گے۔ اس منصوبے کے تحت ریڈیو دوربینوں کے ذریعے کائنات میں گردش کرنےوالی آوازوں کو پکڑا جائے گا تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ آیا کوئی خلائی مخلوق بھی موجود ہے ؟سب سے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے سگنلز کو سمجھنے کی بجائے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ آیا یہ کسی ذہین مخلوق کے ہو سکتے ہیں ؟ ان دس برسوں میں سائنسدان مِلکی وے اور اس کے ارد گرد پائی جانے والی تقریبا ایک سو کہکشاں سے نکلنے والے ریڈیو سِگنلز کا جائزہ لیں گے۔سائنسدانوں کے مطابق خلائی مخلوق یا پھر ذہین مخلوق کی تلاش کے لیے یورج مِلنر کی طرف سے ملنے والی رقم اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔اس منصوبے میں مشیر ہی کی حیثیت سے شامل کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہر فلکیات پروفیسر ڈین ویرتھ ہائمر کا کہنا تھا کہ ابھی تک خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں سالانہ دو ارب ڈالر سے بھی کم رقم خرچ کی جاتی ہے۔انسان گزشتہ کئی دہائیوں سے کائنات میں کسی دوسری مخلوق کی موجودگی سے متعلق سگنلز تلاش کرنے میں مصروف ہے لیکن یہ کوششیں ابھی تک بیکار ثابت ہوئی ہیں۔اسی نوعیت کے ایک منصوبے کا آغاز 1960 میں فرینک ڈریک کی طرف سے کیا گیا تھا، جو بہت مشہور ہوا تھا۔روسی ارب پتی نے 2012 سے فزکس کے شعبے میں بریک تھرو پرائز کا بھی آغاز کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی طرف سے بائیو سائنس کے شعبے میں بھی ایک انعام دیا جاتا ہے۔ کسی بھی سائنسدان کو دیے جانے والے اس ایوارڈ کی مالیت تیس لاکھ امریکی ڈالر ہوتی ہے جبکہ نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدان کو محض بارہ لاکھ کی رقم عطا کی جاتی ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…