جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

پنجاب کے آٹھ اضلاع میں قائم چائلڈ پروٹیکشن بیورو عقوبت خانے کا منظر پیش کرنے لگے ،دل دہلا دینے والی ویڈیوز سامنے آ گئیں

datetime 4  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پنجاب کے آٹھ اضلاع میں قائم چائلڈ پروٹیکشن بیورو عقوبت خانے کا منظر پیش کرنے لگے ،رہائش پذیر بچوں پر بد ترین تشدد کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے وجہ سے کئی بچے بھاگنے پر مجبور ہو گئے ،بیورز میں رہائش پذیر بچوںسے مشقت بھی لی جاتی ہے جبکہ بچوں کی تعداد کے حوالے سے بھی تضاد سامنے آیا ہے ،چیئر پرسن سارہ احمد نے اراکین اسمبلی پر بھی

پیشگی اطلاع کے بغیر دورے پرپابندی کا سرکلر جاری کردیا ،رہائش پذیر بچوں کی حالت زار کے حوالے سے اعلیٰ حکومتی شخصیت کو حقائق سے آگاہ کر دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق لاہور ،سیالکوٹ، گوجرانوالہ،راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان،بہاولپور اور رحیم خارن میں کئی کنال رقبے اور کروڑوں روپے کی لاگت سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں لیکن ان میں بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور جو بچے رہائش پذیر ہیں وہ بھی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ رحیم یار خان اور بہاولپور میں واقع چائلڈ پروٹیکشن بیورز میں رہائش رکھنے والے بچوں کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس میں بچوں کاکہنا ہے کہ انہیں پیٹ بھر کر کھانا نہیں دیا جاتا بلکہ کھانا مانگنے اور غلطی کرنے پر بیلٹوں سے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے کئی بچے وہاں سے فرار بھی ہو چکے ہیں۔بہاولپور بیورو میں رہائش پذیر بچوں کے خارش سمیت دیگر امراض میں بھی مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ بچوں نے بتایا کہ ان سے کچن اور صفائی ستھرائی کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بیوروز میں رہائش پذیر بچوں کے اخراجات کی مد میں لاکھوں رو پے کے اخراجات ظاہر کئے جاتے ہیں لیکن ان بیوروز میں رہائش پذیر بچوں کی تعداد کے میں بھی تضاد سامنے آیا ہے ۔ رحیم یار خان بیورومیں رہائش پذیر دو بچوں کو موٹرسائیکل ورکشاپ اور ٹیلرنگ کے کام پر بھی بھجوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ رحیم یار خان اور بہاولپور میں بچوں کی حالت زار کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری داخلہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئر پرسن سارہ احمد کی ساری توجہ صرف لاہور بیورو میں حکومتی شخصیات کو مدعو کر کے پودے لگانے تک محدودہے اور ان کی جانب سے پنجاب کے دور دراز اضلاع میں قائم بیوروز کی حالت زار سے آگاہی کیلئے ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔ علاوہ ازیں بعض حلقوں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ تمام بیوروز میں قیام پذیر بچوں کی اتنی کم ہے کہ انہیں ایک بیورومیں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے جبکہ باقی عمارتوں کو عمارتوںکو سکولو ں اور کالجو ں کیلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ساہیوال اور سرگودھا میں نئے بیوروز کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…