پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

آئندہ کسی کو فٹ پاتھ پر سونا نہیں پڑیگا،ٹھٹھرتی رات میں سڑک کنارے سونے والے معذورباپ بیٹوں کی قسمت کھُل گئی،حکومت نے کیا شاندار اعلان کر دیا؟

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)ایک روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر شیئر کی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور اس نے اپنے دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ یہ تصویر ایک باپ اور اس کے دو بیٹوں کی تھی جو سڑک کنارے یخ بستہ رات میں ٹوکریاں بیچتے بیچتے ایک بوسیدہ سی چادر میں لپٹے ہوئے سو گئے تھے۔ تصویر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ایک فرشتہ

صف انسان ان باپ بیٹوں کی مدد کیلئے سامنے آیا اور نہ صرف ان کو نئے کپڑے دلوائے اور کھانا کھلوایا بلکہ اس شخص کے دونوں بیٹوں کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ اس فرشتہ صفت شخص کا کہنا تھا کہ اس نے سڑک کنارے اپنے بچوں کیساتھ سونے والے شخص کو منع کیا ہے کہ وہ ٹوکریاں فروخت کرنے کیلئے اپنے ساتھ بچوں کونہ لایا کرے۔ یہ شخص ایک ہاتھ سے معذور ہے۔ اس غریب شخص کی مدد کرنیوالے شہری کا نام عمر یوسف ہے ۔ عمر یوسف کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم دلوانے کیلئے اس شخص کے کم سن بچو ں کا ایک سکول میں داخلہ کروا رہا ہوں اور اگر کوئی اور شہری اس شخص کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اپنا عطیہ ان کو جمع کروا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبہ تو شروع کر رہی ہے تاہم سڑک کنارے موجود ایسے لوگوں کیلئے اس کا کوئی منصوبہ نہیں جس پر وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل سامنے آئے اور ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت صوبہ پنجاب میں 5 شیلٹر ہاؤسز تعمیر کر رہی ہے۔ جس میں سے ایک شیلتر ہاؤس 60 روز کے اندر قائم کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگر کوئی تصویر میں موجود شخص سے متعلق کچھ جانتا ہے تو برائے مہربانی مجھے آگاہ کرے تاکہ اس شخص اور اس کے اہل خانہ کو مدد فراہم کی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…