ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

خطرے کی گھنٹی بج گئی،ڈیم خالی ہوگئے ،دریاؤں کے بہا ؤمیں اضافہ نہ ہونے سے پانی کی مجموعی قلت49 فیصد سے تجاوز ،انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )ملک میں پانی کی قلت نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ،دریاؤں کے بہا ؤمیں اضافہ نہ ہونے سے آبپاشی کے لئے پانی کی مجموعی قلت49 فیصد سے تجاوز کرگئی جس کے باعث پنجاب اور سندھ میں خریف سیزن کی فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔دریاؤں کے بہا ؤمیں کمی کے ساتھ آبی ذخائر میں بھی پانی کی سطح کم ہوگئی ہے۔ ارسا نے خریف کے ساتھ ربیع سیزن کے لئے بھی پانی کی قلت کا خدشہ ظاہر کردیاہے۔ارسا ترجمان کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باوجود

دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ نہ ہونے سے سندھ اور پنجاب کاپانی کا طے شدہ خسارہ 51 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔دریاؤں میں پانی کی آمد 1 لاکھ 12 ہزار9سو کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 1 لاکھ 19 ہزار3سو کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔دریاں کے بہاؤمیں کمی سے آبی ذخائر بھی صفر اعشاریہ دو سو بیس ملین ایکڑ فٹ رہ گئے ہیں۔تربیلا ڈیم میں موجود پانی کا ذخیرہ صفراعشاریہ صفر13فٹ اورمنگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ صفر اعشاریہ دوسوپانچ ملین ایکڑ فٹ رہ گیاہے۔ترجمان کے مطابق پانی کی کمی سے سب سے زیادہ سندھ اور پنجاب متاثر ہورہے ہیں۔ پنجاب کو ستاون ہزار پانچ سو اور سندھ کو پچپن ہزار کیوسک پانی دیا جارہا ہے۔تاہم پختونخواہ اور بلوچستان کوحصے کا پانی دیا جارہا ہے۔پانی کی کمی سے پنجاب اور سندھ میں کپاس کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب تربیلا ، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج ، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہاؤ کی صورتحال حسب ذیل رہی۔ دریاؤں میں دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر آمد42200 کیوسک اور اخرج 45000 کیوسک، کابل میں نونوشہرہ کے مقام پر آمد18100 کیوسک اور اخراج18100 کیوسک، جہلم میں منگلاکے مقام پر آمد34300کیوسک اور اخراج37900 کیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 18300 کیوسک اور اخراج8900کیوسک رہا۔

بیراجوں میں جناح بیراج میں آمد67800کیوسک اور اخراج64300کیوسک،چشمہ میں آمد50900کیوسک اوراخراج65000کیوسک، تونسہ میں آمد65900کیوسک اور اخراج61200 کیوسک، پنجند بیراج میں آمد2300کیوسک اور اخراج صفر کیوسک،گدو بیراج میں آمد44000کیوسک اور اخراج37500کیوسک، سکھر میں آمد34900کیوسک اور اخراج11400 اور کوٹری بیرراج میں آمد6000 کیوسک اور اخراج صفر رہا۔تربیلا میں ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول

1386فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح1387.25 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ0.013 ملین ایکڑ فٹ۔منگلا میں ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1088.90فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ0.205 ملین ایکڑ فٹ۔چشمہ میں ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول638.15فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 638.20فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح649فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ0.000 ملین ایکڑ فٹ۔تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی صورت میں ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…