جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

یگزیکٹو کے امور میں مداخلت کا شوق نہیں ،دل کے ہسپتالوں کی ضرورت ہے، ایک جج کی بیٹی کے علاج کا بل ایک کروڑ سے زائد تھا، مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اتنا مہنگا ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار کا بیان

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مجھے ایگزیکٹو کے امور میں مداخلت کا شوق نہیں ہے، خواہش ہے کہ عوام کے حقوق کیلئے کام کرسکوں، پنجاب امراض قلب کے ڈاکٹرز کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، ہمیں مزید دل کے اسپتالوں کی ضرورت ہے، ایک جج کی بیٹی کے علاج کا بل ایک کروڑ سے زائد تھا مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اتنا مہنگا ہے ۔وہ جمعرات کو کارڈیالوجی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ پنجاب کے امراض قلب کے

ڈاکٹرز کی کارکردگی سے مطمئنہوں۔ہمیں مزید دل کے اسپتالوں کی ضرورت ہے، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر مناسب فیس پر علاج کرنا ہوگا، ایک جج کی بیٹی کے علاج کا بل ایک کروڑ سے زائد تھا، مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اتنا مہنگا ہے، ہمیں ایسے اسپتال نہیں بنائے جہاں لوگوں کو نوچا جائے، پاکستان میں ادویات کی قیمتیں مناسب ہونی چاہیں ۔ ڈائیلسیز اور ہیپاٹائٹس کے علاج پر کمیٹی قائم کرنے کا ارادہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے ایگزیکٹو کے امور میں مداخلت کا شوق نہیں ہے۔ خواہش ہے کہ عوام کے حقوق کیلئے کام کرسکوں۔ ایسے عہدے پر ہوں جہاں صرف خدمت کا جذبہ ہے۔ صحت کے امور میں بہتری کیلئے کام کررہے ہیں۔ حالات کے سامنے کبھی بے بس ہوا نہ روکا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت قوموں کی ترقی کا سبب بنتے ہیں ۔ تعلیم کو ہم نے بنیادی حق جانا لیکن عمل نہیں کیا۔ ترقی کرنی ہے تو تعلیمی نظام بہتر بنانا ہوگا۔ ابھی ہمارا لٹریسی ریٹ قابل فخر نہیں ہے۔ ہمیں بہترین تعلیمی اداروں اور استاتذہ کی ضرورت ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں عملی طور پر بھی کام کرنا ہوگا تاکہ فائدہ اٹھاسکیں۔ تعلیمی نظام کی از سر نو تشکیل کرنا ہوگی۔ ماہر ڈاکٹروں کو میڈیکل کالجوں میں تدریس بھی کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر اظہر کیانی کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے رپورٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ بنا دیا ہے۔ دل کے اسٹنٹ کی قیمت اب 60ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہوگئی ۔ نجی شعبے کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے مگر قیمتیں مناسب رکھیں ۔ انہو ں نے کہا کہ کئی ہسپتالوں میں ایک دن کا خرچ ایک سے ڈیڑھ لاکھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…