ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

یگزیکٹو کے امور میں مداخلت کا شوق نہیں ،دل کے ہسپتالوں کی ضرورت ہے، ایک جج کی بیٹی کے علاج کا بل ایک کروڑ سے زائد تھا، مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اتنا مہنگا ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار کا بیان

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مجھے ایگزیکٹو کے امور میں مداخلت کا شوق نہیں ہے، خواہش ہے کہ عوام کے حقوق کیلئے کام کرسکوں، پنجاب امراض قلب کے ڈاکٹرز کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، ہمیں مزید دل کے اسپتالوں کی ضرورت ہے، ایک جج کی بیٹی کے علاج کا بل ایک کروڑ سے زائد تھا مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اتنا مہنگا ہے ۔وہ جمعرات کو کارڈیالوجی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ پنجاب کے امراض قلب کے

ڈاکٹرز کی کارکردگی سے مطمئنہوں۔ہمیں مزید دل کے اسپتالوں کی ضرورت ہے، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر مناسب فیس پر علاج کرنا ہوگا، ایک جج کی بیٹی کے علاج کا بل ایک کروڑ سے زائد تھا، مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اتنا مہنگا ہے، ہمیں ایسے اسپتال نہیں بنائے جہاں لوگوں کو نوچا جائے، پاکستان میں ادویات کی قیمتیں مناسب ہونی چاہیں ۔ ڈائیلسیز اور ہیپاٹائٹس کے علاج پر کمیٹی قائم کرنے کا ارادہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے ایگزیکٹو کے امور میں مداخلت کا شوق نہیں ہے۔ خواہش ہے کہ عوام کے حقوق کیلئے کام کرسکوں۔ ایسے عہدے پر ہوں جہاں صرف خدمت کا جذبہ ہے۔ صحت کے امور میں بہتری کیلئے کام کررہے ہیں۔ حالات کے سامنے کبھی بے بس ہوا نہ روکا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت قوموں کی ترقی کا سبب بنتے ہیں ۔ تعلیم کو ہم نے بنیادی حق جانا لیکن عمل نہیں کیا۔ ترقی کرنی ہے تو تعلیمی نظام بہتر بنانا ہوگا۔ ابھی ہمارا لٹریسی ریٹ قابل فخر نہیں ہے۔ ہمیں بہترین تعلیمی اداروں اور استاتذہ کی ضرورت ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں عملی طور پر بھی کام کرنا ہوگا تاکہ فائدہ اٹھاسکیں۔ تعلیمی نظام کی از سر نو تشکیل کرنا ہوگی۔ ماہر ڈاکٹروں کو میڈیکل کالجوں میں تدریس بھی کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر اظہر کیانی کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے رپورٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ بنا دیا ہے۔ دل کے اسٹنٹ کی قیمت اب 60ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہوگئی ۔ نجی شعبے کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے مگر قیمتیں مناسب رکھیں ۔ انہو ں نے کہا کہ کئی ہسپتالوں میں ایک دن کا خرچ ایک سے ڈیڑھ لاکھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…