اسلام آباد (نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اہم ذمہ داری سونپ دی ہے۔
پارٹی کی پارلیمانی قیادت نے انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور گورنر راج کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ سیاسی اور مذاکراتی راستے اختیار کریں۔پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ورچوئل اجلاس 20 اکتوبر کی رات 10 بجے شروع ہوا، جو 21 اکتوبر کی رات 12 بج کر 48 منٹ تک جاری رہا۔ اجلاس میں شریک صوبائی اسمبلی کے دو ارکان کے مطابق تقریباً 67 ارکان نے شرکت کی۔اجلاس میں علی امین گنڈاپور کے علاوہ سابق صوبائی کابینہ کے ارکان اکبر ایوب، نذیر عباسی، ظاہر شاہ طورو، خلیق الرحمان، ریاض خان، عارف احمد زئی، آفتاب عالم، سجاد بارکوال اور عدیل اقبال سمیت دیگر پارلیمانی ارکان بھی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے آغاز میں بعض ارکان نے پارٹی قیادت سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد انہیں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں واضح طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ تاہم، شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گزشتہ معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے موجودہ سیاسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی جائے۔
اجلاس کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ان کے رابطے تاحال قائم ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد شرکا نے رائے دی کہ گورنر راج کے خاتمے اور سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جلد مذاکرات کیے جانے چاہییں۔پارلیمانی پارٹی نے اتفاق رائے سے علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کی ذمہ داری سونپتے ہوئے کہا کہ وہ بالخصوص وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی حکومت سے رابطے آگے بڑھائیں۔ ارکان نے زور دیا کہ صوبے میں منتخب حکومت کی بحالی کے لیے ہر ممکن سیاسی راستہ اختیار کیا جائے، کیونکہ موجودہ حالات میں پارٹی کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم، اجلاس میں اس حوالے سے کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ بات چیت کا باضابطہ آغاز کب ہوگا، اس کے لیے کیا شرائط پیش کی جائیں گی یا وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک کیا ردعمل دیا گیا ہے۔اجلاس میں ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے کی خیریت بھی دریافت کی اور خیبرپختونخوا کی تازہ سیاسی صورت حال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔پارلیمانی پارٹی کی جانب سے علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کا اختیار دینے کے فیصلے کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی رابطوں کے ذریعے صورت حال میں بہتری لانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔



















































